رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر کے وزیرِ اعظم کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ


بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے جوان کشمیر میں لائن ٓآف کنٹرول کے قریب گشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کا ہیلی کاپٹر اتوار کے روز جنگ بندی لائن کے قریب پرواز کے دوران غلطی سے بھارتی کشمیر کی فضائی حدود میں پہنچ گیا۔ بھارتی فوج کی طرف سے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کئی گئی۔

لیکن کوئی فائر ہیلی کاپٹر کو نہ لگنے کی وجہ سے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور انکا عملہ محفوظ رہا۔

عینی شاہدوں کے مطابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا ہیلی کاپٹر اسلام آباد سے کہوٹہ جاتے ہوئے پونچھ سیکڑ میں بھارتی کشمیر کی فضائی حدود میں چلا گیا۔

وزیر اعظم فاروق حیدر خان کرائے پر حاصل کیے گئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنی کابینہ کے ایک رکن سے انکے بھائی کی وفات پر تعزیت کے لئے کہوٹہ جا رہے تھے۔

وزیر اعظم کے ترجمان راجہ وسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کوئی بہت زیادہ بھارتی کشمیر کی حدود کے اندر نہیں گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کہوٹہ کا دورہ مکمل کر کے بحفاظت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

ضلع راولاکوٹ کے سرحدی قصبے عباسپور کے صحافی سردار ذوالفقار نے ہیلی کاپٹر کو بھارتی کشمیر کے تین سرحدی دیہات پر سے گزرتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وقت کے مطابق سوا بارہ بجے کے قریب یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کے گزرنے کے بعد فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی۔

سردار ذوالفقار نے بتایا کہ کنٹرول لائن پر ہیلی کاپٹر کا بھارتی کشمیر کی حدود میں چلے جانا پہلی بار نہیں ہوا۔

عباس پور کے ایک رہائشی وقار احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں ایل او سی پر واقع پولس گاؤں سے لوگوں نے ہیلی کاپٹر کے بھارتی کشمیر میں چلے جانے کی اطلاع دی ۔

تاہم بھارتی فوج کی طرف سے کہا گیا کہ پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر نے بھارتی کشمیر کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ۔

اسی دوران پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کی رات پاک بھارت افواج کے درمیان لیپہ ویلی سیکڑ میں دو گھنٹے پوسٹ ٹو پوسٹ چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ۔

پاکستانی کشمیر کے وزیر اعظم کا ہیلی کاپٹر ایک ایسے وقت میں ایل او سی پر بھارتی کشمیر کی فضائی میں آڑتا رہا جب بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائکس کی دھمکی دی گئی ہے اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG