رسائی کے لنکس

ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے کراچی میں فلاحی اسپتال ’’کائینڈ“ کا تحفہ


کراچی میں ’کائینڈ‘ پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب

ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ یو ایس اے نے دس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے وہیل چئیرز اور مصنوعی اعضا کی فراہمی سمیت علاج کی مکمل سہولیات بالکل مفت فراہم کرنے کا ایک مشن شروع کر دیا ہے۔

پاکستان میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہیں مگر مکمل علاج اور مصنوعی اعضا تو دور کی بات وہیل چئیر تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ معذوری اور بے بسی کی زندگی کے شکار ان افراد کی زندگیوں میں روشنی ، اعتماد اور خوشیاں بکھیرنے کے لیے امریکی مسلمانوں کے ایک ادارے ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ یو ایس اے نے دس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے وہیل چئیرز اور مصنوعی اعضا کی فراہمی سمیت علاج کی مکمل سہولیات بالکل مفت فراہم کرنے کا ایک مشن شروع کر دیا ہے۔ ادارے نے حال ہی میں کراچی میں اعصابی بیماریوں کے بارے میں تعلیم و تربیت کےپاکستان کےسب سے پہلے اور سب سے بڑے انسٹی ٹیوٹ اور معذور افراد کی بحالی کے ایک جامع مرکز “ کائنڈ اینڈ ری ہیب “ کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔

اس پراجیکٹ کے بارے میں ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپ منٹ یو ایس اے کے چئیرمین ڈاکٹر محسن انصاری نے حال ہی میں اس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد امریکہ لوٹے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محسن انصاری نے بتا یا کہ پاکستان میں ایسے لاکھوں بچے بوڑھے اور نوجوان موجود ہیں جو بعض اوقات کسی چھوٹی سی معذوری کا شکار ہو تے ہیں لیکن مناسب علاج دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے عمر بھر کے لیے معذور ی اور بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ایسے افراد کے لیےپاکستان میں ایک بہت جامع مرکز کی ضرورت تھی۔ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپ منٹ یو ایس اے پاکستان میں اپنی شاخ کی مدد سے پہلے ہی مانسہر ہ میں معذور افراد کی بحالی کا ایک مرکز چلا رہی ہے جسے 2005 میں پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کے علاج اور بحالی کے لیے بہت چھوٹی سطح پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ مرکز اب پانچ منزلہ عمارت میں معذور افراد کے علاج اور بحالی کا ایک مکمل مرکز بن چکا ہے جو اب تک ہزاروں معذور افرادکو علاج اور بحالی کی سہولیات سے مستفید کر کے ان کی زندگیوں میں روشنی ، اعتماد اور خوشیاں بکھیر چکا ہے۔ تاہم وہ سنٹر ایک ایسے مقام پر قائم ہے جہاں پاکستان بھر کے معذور افراد کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ اس سنٹر کےکامیاب تجربے کی وجہ سے ہیلپنگ ہینڈ یو ایس اے کویہ اعتماد حاصل ہوا کہ وہ کراچی جیسے بڑے شہر میں معذور افراد کے علاج اور بحالی کا ایک پہلا اور سب سے بڑا اور جامع مرکز قائم کر سکتا ہے ۔

ڈاکٹر محسن نے کہا کہ کائنڈ ہسپتال اور بحالی کا مرکز مرحلہ وار مکمل ہو گا اور جب یہ مکمل ہو گا تو اس میں مصنوعی اعضا کی فراہمی کے لیے ایک مکمل شعبہ کام کرے گا۔ یہ شعبہ ہر قسم کی فزیو تھیرپی کے لیے کام کرے گا ۔ اس میں بچوں کے لیے اسپیچ تھیراپی اور اکو پیشنل تھیراپی کا بند بست ہو گا اور ایسےبوڑھے افراد کو جو فالج کا شکار ہو کر عمومی طور پر اپاہج اپاہج ہو جاتے ہیں انہیں ہر قسم کی تھیراپی اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان سب شعبوں کا واحد مشن یہ ہو گا کہ معذور افراد کو عام انسانوں کی طرح کار آمد ، خود انحصار اور خوش باش زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

ڈاکٹر محسن انصاری نے بتایا کہ یہ مرکز شروع میں صرف کراچی اور سندھ کے معذور افراد کو علاج اور بحالی کی سہولیات مکمل طور پر فراہم کرے گا جس کے بعد اس کا دائرہ پاکستان بھر میں پھیلا دیا جائے گا اور آئندہ دس برسوں میں ملک بھر میں اس ہسپتال کے تحت دو سو ایسے چھوٹے یونٹس قائم کئے جائیں گے جہاں معذور افراد کو ابتدائی علاج مفت فراہم کیا جائے گا ۔لیکن اگر یہ محسوس کیا گیا کہ انہیں مزید مخصوص علاج کی ضرورت ہے تو انہیں کراچی کے مرکز تک منتقل کر دیا جائے گا۔

ڈاکٹر محسن انصاری نے کہا کہ کراچی میں معذور افراد کی بحالی کا ادارہ کائنڈ امریکی مسلمانوں کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک تحفہ ہو گا،جس کی تمام فنڈنگ ہیلپنگ ہینڈ یو ایس اے کرے گا لیکن اگر پاکستان میں مخیر حضرات یا ہنر مند افراد کسی بھی انداز سے اس ادارے کے کار خیر میں شریک ہونا چاہیں گے تو ادارہ ان کا بھی خیر مقدم کرے گا ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG