رسائی کے لنکس

logo-print

ایڈز کے علاج کی مؤثر دوا


ایڈز کے علاج کی مؤثر دوا

ماہرین کے مطابق امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں اینٹی ریٹرو وائیرل ادویات کے استعمال کے ذریعے ایڈز کے مریضوں کے زندہ رہنے کا امکان 81 فیصد تک بڑھ گیا ہے

ایڈز کی مریضہ کیتھی بینٹی پچھلے 22 برسوں سے اپنے علاج کے لیے Anti Retroviral ادویات لے رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کسی بھی صحت مند شخص جیسی ہی ہے اور وہ ایک بھرپور زندگی گذار رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں اینٹی ریٹرو وائیرل ادویات کے استعمال کے ذریعے ایڈز کے مریضوں کے زندہ رہنے کا امکان 81 فیصد تک بڑھ گیا ہے ۔لیکن غریب ممالک میں ایچ آئی وی ایڈز کا مرض ابھی تک بہت سی جانوں کو نگل رہاہے۔ اور اس کی بڑی وجہ موثر علاج کا دستیاب نہ ہونا ہے ۔

تاہم تقریباً ایک عشرہ قبل ان ممالک میں پہلی اینٹی ریٹرو وائیرل ادویات کو متعارف کروایا گیا ۔مشرقی افریقہ کے ملک یو گینڈا میں کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان ادویات کے استعمال سےایچ آئی وی کے متاثرہ مریض صحت مند افراد جتنی ہی طویل زندگی گزارنے کی توقع کر سکتے ہیں ۔ وہاں اوسط عمر 55 سال کے لگ بھگ ہے ۔

ڈاکٹر ایڈورڈ ملز اس تحقیق میں شامل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرایک مریض 20 سال کی عمر میں اس مرض کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے علاج شروع کروا دے تو وہ اوسطاً مزید27 سال زندگی کی توقع رکھ سکتا ہے ۔

طبی ماہرین کا کہناہے کہ اس تحقیق سے ترقی پذیر ممالک میں صحت عامہ کےاداروں کو درپیش ایک نئے اور بڑے چیلنج سے نمٹنے والی کوششوں پر رشنی پڑتی ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ اس وقت جواب طلب سوال یہ ہے کہ آیا اس وقت دنیا کے مختلف علاقوں میں ایڈز کے علاج معالجے کی سہولتوں میں فرق دور کرنے کے لیے مالی وسائل مہیا کیئے جاسکتے ہیں یا نہیں ۔

XS
SM
MD
LG