رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: پالتو کتے میں کرونا وائرس کی تصدیق


ہانگ کانگ میں ایک پالتو کتے میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو انسان سے جانور کو یہ وائرس منتقل ہونے کا پہلا معلوم واقعہ ہے۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ کرونا وائرس پالتو جانوروں کے ذریعےنہیں پھیل سکتا لیکن اس کیس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ کتا ایک ایسے شخص کا تھا جو خود کرونا وائرس کا شکار تھا۔ اسے 26 فروری سے قرنطینہ رکھا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہانگ کانگ کے حکام کا خیال تھا کہ کتے کو انفیکشن نہیں ہے بلکہ وہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اس کیفیت کا شکار ہوا ہے۔ لیکن اب ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ اسے کم درجے کا انفیکشن ہے۔ اس میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں جب کہ اسی اسپتال میں ایک اور کتے کا ٹیسٹ منفی آیا۔

ہانگ کانگ حکومت نے کہا ہے کہ اس نے کتے کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا اعلان جانوروں کے مقامی ڈاکٹروں اور جانوروں کی صحت سے متعلق عالمی تنظیم سے مشورے کے بعد کیا ہے۔

اونٹاریو ویٹرنری کالج کے پروفیسر جے اسکاٹ کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ کتے کرونا وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن مزید کچھ کہنا دشوار ہے کہ اس کے انسانوں یا کتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

کتے کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن وائرس کا حملہ کمزور ہے۔ پروفیسر اسکاٹ نے کہا کہ ان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کرونا وائرس خاص طور پر انسانوں پر حملہ کرتا ہے یا صرف انسانوں پر حملہ کرتا ہے؟ کیونکہ اس صورت میں اس سے نمٹنے کا انداز بدلنا پڑے گا۔

جرنل آف وائرولوجی میں جنوری میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ جو خلیات کرونا وائرس کو قبول کرتے ہیں وہ بلیوں، سوروں اور بندروں میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان جانوروں میں کرونا وائرس پھیل سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق جانوروں سے انسانوں کو بیماریاں منتقل ہونے پر کافی تحقیق کی جا چکی ہے لیکن انسانوں سے جانوروں کو بیماری منتقل ہونے پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG