رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان بچوں سے مشقت کے خاتمے میں 'ناکام' رہا ہے: رپورٹ


ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر فیلم کائن کہتے ہیں کہ "ہزاروں افغان بچے اپنے خاندان کو خوراک فراہم کرنے کے لیے ہر روز اپنی صحت و سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔"

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم دعویٰ کیا ہے کہ افغان حکومت بچوں کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور افغانستان کے بچوں کی ایک قابل ذکر تعداد اب بھی گزر اوقات کے لیے مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ افغانستان میں بچوں کو قالین بافی، اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں سمیت کئی دیگر شعبوں میں قلیل اجرت یا بغیر اجرت کے بھی طویل گھنٹوں تک مزدوری کرنا پڑتی ہے۔

نیویارک میں قائم اس تنظیم کا کہنا تھا کہ بہت سے بچوں کو غربت کے باعث اسکول سے نکال کر مضر شعبوں میں کام کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گو کہ افغانستان میں محنت کے قوانین میں 14 سال سے کم عمر بچوں سے مشقت لینے پر پابندی ہے اور اس ملک نے بچوں سے مشقت کے خلاف بین لاقوامی میثاق پر دستخط بھی کر رکھے ہیں لیکن افغان حکام "ہزاروں بچوں جن میں سے کئی پانچ سال کی عمر کے بھی ہیں، کو مضر ماحول" محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پانچ سے 14 سال کی عمر کے 25 فیصد جن میں 12 سے 14 سال عمر کے 22 فیصد بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔

2013ء میں افغانستان کے آزادانہ ہیومن رائٹس کمیشن نے کسی نہ کسی لحاظ سے مزدوری کرنے والے بچوں کی شرح 52 فیصد بتائی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر فیلم کائن کہتے ہیں کہ "ہزاروں افغان بچے اپنے خاندان کو خوراک فراہم کرنے کے لیے ہر روز اپنی صحت و سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔"

2014ء میں افغان حکومت نے 19 شعبوں کو مضر قرار دیتے ہوئے ان میں بچوں سے کام لینے پر پابندی عائد کر دی تھی، لیکن تنظیم کے مطابق حکام اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں "ناکام رہے" ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے کابل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کا پاس کرتے ہوئے بچوں سے مشقت کا خاتمہ کرے۔ ساتھ ہی تنظیم نے افغانستان کے بین لاقوامی حامیوں سے کہا ہے کہ وہ افغان بچوں کو مشقت کے خطرناک ماحول سے بچانے کے لیے فوری اقدام کریں۔

تاحال اس رپورٹ پر افغان حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG