رسائی کے لنکس

logo-print

ہبل خلائی دوربین کے 25 سال، قدرت کی کاریگری کے نئے راز افشا


ہبل کی تحقیق نے کائنات میں خلائی وسعتوں کے تقریباً ہر زاوئے سے دستیاب علم میں اضافہ کیا ہے، جس میں فلکی نظام کے وسیع تر ہونے اور تیز تر حرکت کی شرح، ’بِگ بینگ‘ کے فوری بعد اوائلی کہکشاں کی تشکیل کا عمل، اور مختلف ستاروں کی کیمیائی ترکیب اور دیگر سیاروں پر ممکنہ سکونت سے متعلق انکشافات شامل ہیں


خلائی گاڑی ’ڈسکوری‘ سے 25 برس قبل ہفتے ہی کے دِن ’ہبل خلائی دوربین‘ نصب کی گئی تھی، جس میں مختلف نوعیت کے چمکتے ہوئے اوزار لگے ہوئے تھے، جس کا مقصد کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانا تھا۔

اب تک ہبل ٹیلی اسکوپ خلا سے حیرت انگیز تصاویر بھیجنے میں کامیاب رہا ہے۔

جان گرنسفیلڈ ’ہبل‘ کے خلانورد اور ’ناسا‘ کے’ سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ‘ کے معاون منتظم ہیں۔

بقول اُن کے، ’ہبل نے سائنس کے میدان میں نئے باب کا اضافہ کیا ہے اور اس کی جانب سے کی جانے والی دریافت سے کائنات کی وسعت اور حسن کو آشکار کیا گیا ہے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ آئندہ برسوں کے دوران سماوی نظاموں کی پراسراریت سے پردے اٹھتے رہیں گے۔

ہبل نے نظام شمسی کی تصویرکشی کی ہے، جس کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے فلک شناسی کے نئے دوررس زاوئے کھل چکے ہیں۔

ہبل کی تحقیق نے کائنات میں خلائی وسعتوں کے تقریباً ہر زاوئے سے دستیاب علم میں اضافہ کیا ہے، جس میں فلکی نظام کے وسیع تر ہونے اور تیز تر حرکت کی شرح، ’بِگ بینگ‘ کے فوری بعد اوائلی کہکشاں کی تشکیل کا عمل، اور مختلف ستاروں کی کیمیائی ترکیب اور دیگر سیاروں پر ممکنہ سکونت سے متعلق انکشافات شامل ہیں۔
ابتدا میں منصوبہ یہ تھا کہ سنہ 2005 میں یہ مشن ختم کر دیا جائے گا۔ تاہم، خلائی گاڑی کے پانچ مشنز کے بعد بھی یہ اتنا ہی تنومند منصوبہ ہے، جس میں 32 خلانوردوں نے خلا میں چہل قدمی کی، جب کہ دوربین کے پراجیکٹ سے بیشمار سائنس داں وابستہ رہے ہیں۔

ہبل کی ویب سائٹ مین بتایا گیا ہے کہ ابتدا کے مقابلے میں اِس وقت رصد گاہ کی سائنسی استعداد بہت زیادہ ہے، جس میں نئے بہتر آلات کی دستیابی اور تنصیب، کمپیوٹرز اور دیگر آپریٹنگ سسٹم اپنی بہتر کارکردگی ، اور اِس عشرے کے اختتام تک یہ کارکردگی جاری رہنے کی توقع ہے۔

امریکہ میں، ہبل سے متعلق تعلیمی مواد سے سالانہ پانچ لاکھ سے زائد اساتذہ اور 60 لاکھ طالب علم استفادہ کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG