رسائی کے لنکس

انسان کی موجودہ نسل جسے ماڈرن یا جدید انسان کہا جاتا ہے، زمین پر سب سے آخر میں آنے والی مخلوق ہے، ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کا جنم تقریباً 50 ہزار سال پہلے ہوا تھا جس کے بچوں کی تعداد آج اربوں میں ہے۔

آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ زمین پر آج تک جتنے انسان پیدا ہوئے ہیں، ان کی ساڑھے سات فی صد تعداد اس وقت زندہ ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ آج تک پیدا ہونے والے انسانوں کی کل تعداد تقریباً ایک کھرب ہے ۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں دنیا کی کل آبادی ساڑھے سات أرب ہو گئی ہے۔ اس لحاظ سے انسانوں کی کل تعداد کا ساڑھے سات فی صد حصہ زندہ ہے۔

ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ انسان تو لاکھوں برسوں سے موجود ہے۔ اس کی ہزاروں نسلیں مر کھپ چکی ہیں۔ پھر کل انسانوں کا ساڑھے سات فی صد حصہ زندہ کیسے ہے۔ تو اس کا سادہ سا جواب ہے عمر۔۔۔ جی ہاں عمر۔

اس وقت انسان کی اوسط عمر پوری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے اور یہ ہے تقریباً 70 سال ۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 میں اوسط عمر 80 سال سے بڑھ جائے گی۔ جس کی وجہ ہے بہت سی موذی بیماریوں پر قابو پانا، علاج معالجے کی سہولتوں میں اضافہ، تعلیم ا ور بہتر طرز زندگی۔

شاید آپ کو یہ علم ہو کہ ماضی کے طویل عرصے میں انسان کی اوسط عمر زیادہ تر20 اور 30 سال کے درمیان رہی ہے۔ چار پانچ ہزار سال پہلے کے حکمران فرعون بھی، جو خود کو زمین پر خدا سمجھتے تھے، تیس بتیس سال سے زیادہ نہیں جیئے۔

اسی طرح یونان کے قبل ازمسیح ترقی یافتہ دور میں جب وہاں بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوئے، انسان کی اوسط عمر محض 28 سال تھی۔ قدیم ترقی یافتہ روم میں بھی لوگ اوسطاً 30 سال زندہ رہتے تھے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ صنعتی دور شروع ہونے سے پہلے سب سے لمبی عمر اسلامی خلافت کے عہد میں تھی ۔ اس دور میں مالدار اور پڑھے لکھے افراد کی عمومی عمریں 69 سے 75 سال کے درمیان تھیں۔ اس کی وجہ صفائی اور ستھرائی کے بارے میں آگہی تھی، جو انہیں بیماریوں سے بچاتی تھی۔

انسانی تاریخ کے پہلے 40 ہزار برسوں کے بارے میں ہماری معلومات بہت محدود ہیں۔ اس کے بعد پتھر کا زمانہ شروع ہوتا ہے پھر انسان ترقی کرتا ہوا دھات اور پھر تقریباً دو سال پہلے صنعتی دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سارے عرصے میں انسان کی عمر زیادہ تر 30 سے 35 سال کے درمیان رہی ہے ۔ سبب یہ تھا کہ بچوں کی اکثریت 10 سال کی عمر سے پہلے ہی مر جاتی تھی۔ اس کے علاوہ ر وقفوں وقفوں سے وبائیں پھیلتی تھیں جو بستیوں کی بستیاں اور ملکوں تک کا صفایا کر دیتی تھیں۔ یا پھر سفاک جنگجوؤں کے لشکر اترتے تھے اور کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے ہوئے نکل جاتے تھے۔

ہم اور آپ انسانوں کی جس نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور جسے ماہرین ماڈرن انسان کہتے ہیں، اس کی تاریخ ماضی میں محض 50 ہزار سال تک جاتی ہے۔ اس سے پہلے بن مانس سے متشابہ جو مخلوق تھی، آپ زیادہ سے زیادہ اسے انسانوں کا کزن کہہ سکتے ہیں۔

پچاس ہزار سال اچانک جنم لینے والا انسان اس زمین کا باشندہ تھا یا اس کا ڈی این اے کسی شہاب ثاقب کے ذریعے کرہ ارض پر پہنچا تھا، فی الحال کوئی نہیں جانتا۔ البتہ ماہرین اس پر متفق ہیں کہ ماڈرن انسان کی نسل افریقہ سے شروع ہوئی اور رفتہ رفتہ تمام براعظوں میں پھیل گئی۔

آبادی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ ساڑھے سات أرب کی موجودہ آبادی سن 2050 میں 10 أرب تک پہنچ جائے گی۔ لیکن اس کے بعد آبادی کے اضافے میں بریک لگ جائے گی ۔ کیونکہ زمین اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ 10 أرب سے زیادہ لوگوں کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ اضافی آبادی بھوک سے مر جائے گی یا پھر خوراک کی چھینا جھپٹی کی لڑائیوں میں ماری جائے گی۔ یا پھر تمام ملک آبادی پر کنڑول کے کسی سمجھوتے پر سختی سے عمل کرنا شروع کردیں گے۔ یا پھر وہ زمین سے باہر زمین جیسے سیاروں پر آبادکاری کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دیں گے۔

بات ہو رہی ہے سن 2050 کی، جب کرہ ارض کی آبادی 10 أرب ہو جائے گی۔ اس وقت آج تک پیدا ہونے والے کل انسانوں میں زندہ لوگوں کا تناسب 8 اعشاریہ 6 فی صد ہو جائے گا کیونکہ أوسط عمر 80 سال سے بڑھ چکی ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زندہ انسانوں کی شرح میں اضافے کا سلسلہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکے گا کیونکہ انسان چاہے جتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، اس کی عمر زیادہ سے زیادہ سوا سو سال تک جا سکتی ہے۔ کیونکہ فی الحال گوشت پوست کا یہ جسم اس سے زیادہ اپنا وجود برقرار رکھ سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG