رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کونسل کے دروازے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بند کیے جائیں


انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین جنیوا میں کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ 6 جون 2017

اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ وینزویلا ایک ایسے ملک کی مثال ہے جسے اس وقت تک کونسل میں نہیں رہنا چاہیے جب تک وہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو درست نہیں کر لیاتا۔۔

اقوام متحدہ کے لئے امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کا ادارہ اصلاحات نہیں کرتا تو ٹرمپ انتظامیہ انسانی حقوق کی کونسل سے الگ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کونسل کے تین ہفتوں پر مشتمل سیشن کے افتتاحی اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔

امریکی سفارت کا نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کونسل سے یہ بھی کہا کہ کسی ایسے ملک کو جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا ہے پینل میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

منگل کے روز جنیوا میں ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکہ کونسل میں اپنی شرکت کا محتاط طریقے سے جائزہ لے رہا ہے اور اسے ایسے شعبے دکھائی دیتے ہیں جہاں نمایاں اصلاح کی ضرورت ہے ۔

سفیر نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کی صورت حال پر ایک ضمنی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جہاں، انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا ایک ایسے ملک کی مثال ہے جسے اس وقت تک کونسل میں نہیں رہنا چاہیے جب تک اس کا اپنا ملک ٹھیک نہیں ہو جاتا۔

اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ کونسل کا رکن ہونا ایک اعزاز ہے اور کسی ایسے ملک کو جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا ہے، کونسل میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔ اور سب سے آخری بات کہ یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ کونسل نے وینزویلا کے بارے میں کبھی کسی قرار داد پر غور نہیں کیا اور دوسری طرف اس نے مارچ میں ایک واحد ملک، اسرائیل کے خلاف پانچ متعصبانہ قرار دادیں منظور کیں ۔ اگر اس کونسل کو اپنی کوئی ساکھ قائم رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنے سخت تعصب سے نمٹے ۔

نکی ہیلی نے برطانیہ میں لندن برج پر دہشت گردی کے حالیہ حملے پر امریکہ کی جانب سے برطانیہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ امریکہ انتہا پسندی کے خلاف لڑنے کے لیے اس ملک کے ساتھ سختی سے کھڑا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG