رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات 2018ء: کالعدم شدت پسند تنظیموں کے سیکڑوں امیدوار


انتخابی کمیشن کے حکام نے کہا ہے کہ یہ اُن کی ذمے داری نہیں کہ وہ کسی فرد یا جماعت کو دہشت گرد قرار دیں۔

پاکستان بھر کے ووٹروں نے بدھ کے روز نئی سولین حکومت کو منتخب کرنے کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ملک کے انتخابی کمیشن نے مختلف بنیادوں پر متعدد امیدواروں کو نااہل قرار دیا، جن میں بدعنوانی کے الزامات بھی شامل ہیں۔

چند مبصرین نے الزام لگایا ہے کہ وہ امیدوار جنھیں فوج کے لیے خطرے کا باعث گردانا جاتا ہے اُن کے ساتھ امتیازی رویہ برتا جا رہا ہے؛ جب کہ وہ امیدوار جن کے کالعدم شدت پسند گروپوں سے مبینہ رابطے ہیں اُنھیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔

لاہور میں مقیم تجزیہ کار، رسول بخش رئیس نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’حالانکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (اِی سی پی)، جو انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار وفاقی ادارہ ہے، واضح کیا ہے کہ پاکستان الیکشن کمیشن نے ایسے عناصر کی جانب سے سیاسی اجتماعات یا انتخابی مہم چلانے پر کوئی بندش نہیں لگائی‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’تحریک لبیک کےحافظ سعید اور خادم رضوی کو دیکھ لیں، یا پھر ملک بھر سے قومی اور صوبائی نشستوں پر انتخاب لڑنے والے متعدد دیگر افراد کو دیکھ لیں‘‘۔

انتخابی کمیشن کے حکام نے کہا ہے کہ یہ اُن کی ذمے داری نہیں کہ وہ کسی فرد یا جماعت کو دہشت گرد قرار دیں۔

اِی سی پی کے ترجمان، الطاف احمد نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’یہ ذمہ داری حکومت کی ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم قانونی ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنائیں، اور تصدیق کے بعد ہی ہم کسی فرد یا پارٹی کو الیکشن میں کھڑے ہونے کی اجازت دیتے ہیں‘‘۔

گذشتہ ہفتے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انتخابات کے باضابطہ ہونے پر اظہار تشویش کیا تھا جس میں درجنوں انتہاپسند اور کالعدم جماعتیں شرکت کر رہی ہیں۔

امریکہ میں پاکستان کےسابق سفیر اور واشنگٹن میں قائم ’ہڈسن انسٹی ٹیوٹ‘ میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے شعبے کے سربراہ، حسین حقانی کے خیال میں’’ ایک واضح ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے پاکستان کی فوج انتخابات میں مداخلت کر رہی ہے‘‘۔

حقانی نے پیر کے روز ’فارین پالیسی‘ مگزین میں تحریر کردہ ایک مضمون میں کہا ہے کہ ’’اسٹیبلش منٹ دو جماعتوں کی جڑیں کاٹنا چاہتی ہے جو گذشتہ تین عشروں سے سیاسی افق پر براجمان ہیں۔۔پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)‘‘۔

حقانی نے مزید کہا کہ ’’متعدد مذہبی انتہاپسند، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن دہشت گردوں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، اُنھیں امیدوار بننے اور عہدوں کے لیے آزادانہ طور پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی گئی ہے‘‘۔

فوج ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ وہ ملک کے انتخابی عمل میں مداخلت کر رہی ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان، میجر جنرل آصف غفور نے گذشتہ ہفتے ملک کے قانون سازوں کو بتایا کہ ’’ہمارا انتخابات سے کوئی سر و کار نہیں ہے۔ ہم محض الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں، تاکہ امن و امان کی صورت حال کو بہتر کیا جا سکے۔ ہمارا ووٹنگ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں‘‘۔

فوج نے ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں میں تقریباً 350000 فوجی تعینات کیے۔

شدت پسند گروپ

بدھ کے روز کے انتخابات میں متعدد شدت پسند تنظیموں نے انتخاب لڑا۔ ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل)، جسے امریکہ نے کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے، نے اللہ و اکبر تحریک (اے اے ٹی)، جو ایک اسلام نواز سیاسی پارٹی ہے، اُس کے پلیٹ فارم کے تحت وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات لڑ رہی ہے، اور اُن کی جانب سے 260 امیدوار میدان میں تھے۔

اس سال کے اوائل میں، امریکی محکمہٴ خارجہ نے ایم ایم ایل کو دہشت گرد گروپ تنظیم جب کہ اُس کی قیادت کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

حافظ سعید پر الزام ہے کہ وہ 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے سرغنے ہیں، جس دہشت گردی میں 160 افراد ہلاک ہوئے، جس میں چھ امریکی بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے اُنھیں عالمی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ حافظ سعید نے ایم ایم ایل کی جانب سے منعقدہ سیاسی اجتماعات اور ریلیوں سے کھلے عام خطاب کیا۔

دوسرا شدت پسند گروپ، اہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر 150سے زائد امیدوار میدان میں تھے۔ اس شدت پسند گروپ نے ’راہِ حق پارٹی‘ یا آزادی امیدوار کا نام استعمال کیا۔

اورنگزیب فاروقی

اے ایس ڈبلیو جے سے تعلق رکھنے والے اورنگزیب فاروقی نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر، کراچی میں قومی اسمبلی کے لیے امیدوار کھڑے کیے اور مضبوط انتخابی مہم چلائی۔

پہلی بار فاروقی نے کھلے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ وہ 2013ء میں بھی امیدوار تھے اور محض 202 ووٹوں سے الیکشن ہار گئے تھے۔

رسول بخش رئیس نےکہا ہے کہ ’’اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس مرتبہ اورنگزیب فاروقی انتخاب جیت جائیں۔ یہ شخص پاکستان کی دہشت گرد واچ لسٹ پر رہا ہے۔ اُن کی جماعت، اے ایس ڈبلیو جے کا نفرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ تشدد میں واضح ریکارڈ رہا ہے۔ تاہم، اُنھوں نے انتخابی مہم چلائی۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے‘‘۔

اہل سنت والجماعت ایک سنی شدت پسند گروپ ہے جسے 1985ء میں صوبہٴ پنجاب میں قائم کیا گیا تھا، تاکہ ملک میں شیعہ مسلک کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس سے قبل، جماعت کو ’سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی)‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پارٹی کو پاکستان کی دہشت گرد واچ لسٹ میں ڈالا گیا تھا، جن پر لشکر جھنگوی (ایل اِی جے) اور القاعدہ کے شدت پسند گروہوں سے مبینہ روابط ہیں۔

شفیق مینگل

شفیق مینگل ایک متنازع امیدوار ہیں، جو منتخب عہدے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مبینہ طور پر اُن کے دہشت گرد گروپوں سے روابط ہیں۔ وہ بلوچستان کے شہر، خضدار سے قومی اسمبلی کی نشت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔

مینگل ’بلوچ مچلح دفاع تنظیم‘ کے بانی ہیں، جسے 2010ء میں پاکستان نے اپنی دہشت گرد واچ لسٹ میں شامل کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مینگل نے ہزارہ شیعہ حضرات خلاف فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں شرکت کی، اور بلوچ باغیوں کے خلاف کام کیا جو صوبہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحاریک چلا رہے ہیں۔

پاکستان کی تحریک لبیک (ٹی ایل پی)، جو ایک اسلام نواز سیاسی جماعت ہے، ملک کے متنازع توہین مذہب کے قانون کے سختی سے نفاذ کی داعی ہے، اُس نے بھی انتخابات میں 180 سے زائد امیدوار کھڑے کیے۔

جماعت کے رہنما خادم رضوی کھلے عام ممتاز قادی کے مداح ہیں اور اُن کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کر رکھا ہے۔

قادری پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے محافظ تھے، جنھیں قادری نے 2011ء میں قتل کیا، جب تاثیر نے ملک کے توہین رسالت کے متنازعہ قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG