رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: نربھیا ریپ کیس کے مجرموں کو پھانسی 22 جنوری کو ہو گی


نربھیا کی والدہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

مقامی عدالت نے نربھیا اجتماعی زیادتی اور قتل کے مجرموں کے 'ڈیتھ وارنٹس' جاری کر دیے ہیں۔ چار مجرموں کو 22 جنوری کو صبح سات بجے دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی جائے گی۔

پٹیالہ ہاوس کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ستیش کمار اروڑہ نے موت کا فرمان یعنی 'ڈیتھ وارنٹس' جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجرمان 14 روز کے اندر اپنے تمام قانونی استحقاق حاصل کر سکتے ہیں۔

مجرموں کے نام مکیش، ونے شرما، اکشے شرما اور پون گپتا ہیں۔ ان کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔

مجرموں کے وکیل اے پی سنگھ نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کے لیے سپریم کورٹ آف انڈیا سے رُجوع کا اعلان کیا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں سقم کی درستگی کے لیے اعلٰی عدلیہ سے رُجوع کریں گے۔

نربھیا کی ماں بھی ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے موقع پر عدالت میں موجود تھیں۔ انہوں نے اس فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عدالت پر خواتین کا اعتماد بڑھے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سات سال سے وہ جو لڑائی لڑ رہی تھیں وہ آخر کار اپنے انجام کو پہنچی۔ اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ تمام مظلوم خواتین کی جیت ہے۔

اس واقعے پر بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔
اس واقعے پر بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔

میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ نربھیا کو 16 دسمبر 2012 کی شب میں دہلی کی ایک چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے ساتھ وحشیانہ تشدد بھی کیا گیا تھا۔ پہلے خاتون کا علاج دہلی میں اور پھر سنگاپور میں ہوا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی اور چند روز کے اندر اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

واقعے پر بھارت سمیت دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی روز تک سراپا احتجاج رہی تھیں۔ واقعے کے بعد نئی دہلی پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد بھارت میں ریپ سے متعلق قوانین بھی مزید سخت کر دیے گئے تھے۔

واقعے میں ملوث تمام چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں ایک نابالغ ملزم کا کیس بچوں کی عدالت میں زیر سماعت رہا تھا۔ اسے تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایک ملزم نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں خود کُشی کر لی تھی۔

مقامی عدالت نے تمام ملزموں کو ستمبر 2013 میں سزائے موت سنائی تھی جس کی توثیق دہلی ہائی کورٹ نے مارچ 2014 میں کی۔ سپریم کورٹ نے مئی 2017 میں فیصلے کو برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی اپیلیں بھی خارج کر دی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG