رسائی کے لنکس

logo-print

عمران، غنی ٹیلی فونک رابطہ، کیا پاکستان افغانستان میں تشدد کم کرا سکتا ہے؟


افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بدھ کی شام پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے افغان امن عمل پر بات چیت کے علاوہ افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی کی ٹوئیٹ کے مطابق پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ تشدد میں کمی اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان افغانستان کی مدد کرے گا۔

دوسری جانب پاکستانی حکام کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اشرف غنی اور عمران خان نے افغان امن عمل اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے افغان قیادت کی سرپرستی میں امن عمل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حال ہی میں دوحہ میں بین الافغان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا تھا۔

اس موقع پر وزیر اعطم عمران خان نے یہ واضح کیا کہ پاکستان افغان امن مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا اور طالبان رہنماؤں کا حالیہ دورۂ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

خیال رہے کہ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان میں تشدد کے واقعات بڑھنے پر عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے بھی تمام افغان فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد میں کمی کے لیے اقدامات سے جنگ بندی کی راہ ہموار کریں۔

دوسری طرف افغان صدر کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے صدر غنی کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں تشدد میں کمی کے لیے افغانستان کی مدد کرے گا۔

افغان صدر اشرف غنی اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغان طالبان کا وفد ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر ہے۔

طالبان وفد نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی اور افغان امن عمل میں ہونے والے پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار طفر جسپال کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب طالبان کا سیاسی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور صدر غنی کے درمیان رابطہ اس بات کا عکاس ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد بڑھ رہا ہے۔

ان کے بقول اس وقت افغان حکومت کو پاکستان پر پورا اعتماد ہے کہ پاکستان افغان طالبان، دیگر افغان دھڑوں بشمول افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

ظفر جسپال کے بقول حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ اعظم کا دورۂ افغانستان، صدر غنی سے ٹیلی فون رابطہ، زلمے خلیل زادہ کا دورۂ پاکستان اور طالبان کے وفد کے اسلام آباد کے دورے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اعتماد کی فضا بہتر ہوئی ہے۔

ان کے بقول اب اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کی فضا اتنی بہتر ہو چکی ہے کہ اب دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام تراشی سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

کیا پاکستان تشدد کم کرا سکتا ہے؟

تجزیہ کار ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک عرصے سے افغان قیادت کی سرپرستی میں افغان امن عمل کی حمایت کر رہا ہے۔

ان کے بقول پاکستان تمام دھڑوں پر یہ زور دیتا رہا ہے کہ وہ تشدد ختم کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں اور پاکستان یہی کوشش جاری رکھے گا۔

لیکن ظفر جسپال کے بقول یہ تاثر بھی درست نہیں کہ افغان طالبان پاکستان کی ہر بات مان لیتے ہیں۔ لہذٰا پاکستان کی کوششوں کا شاید وہ نتیجہ نہ ہو جو افغان حکومت چاہتی ہے۔

تجزیہ کار جسپال کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی کوششیں اپنی جگہ لیکن ان کے بقول امن کے حصول کی طرف اسی صورت پیش رفت ہو گی جب تمام افغان اسٹیک ہولڈرز اپنے سخت مؤقف میں لچک دکھائیں گے۔

یادر ہے کہ کابل حکومت اور امریکہ کے ساتھ ساتھ عالمی برادری بھی افغانستان میں تشدد میں کمی اور جنگ بندی پر زور دیتی آرہی ہے لیکن طالبان ابھی تک اس بات پر آمادہ نہیں ہیں۔

جنرل مارک ملی کی صدر اشر ف غنی سے ملاقات

دوسر ی جانب امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے بدھ کو کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر افغانستان کے سیکیورٹی عہدے داروں کے علاوہ افغانستان کے اول نائب صدر امراللہ صالح اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات میں افغان امن عمل پر تبادلۂ خیال ہوا اور فریقین نے افغانستان میں تشدد میں ہونے والے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے۔

افغان صدارتی محل کے ایک بیان کے مطابق اس موقع پر امریکی افواج کے سربراہ جنرل ملی نے افغان صدر کو یقین دہانی کرائی کہ امریکہ افغان ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز کی حمایت جاری رکھے گا۔

اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک اے ملی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات سے متعلق طالبان سے ملاقات کی۔

پینٹاگان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل مارک ملی اور طالبان کے درمیان ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں خطے میں استحکام اور امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے فوری طور پر تشدد میں کمی، سیاسی حل کیلئے پیشرفت میں تیزی لانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جنرل مارک ملی طالبان سے ملاقات کے بعد بدھ کو افغان صدر سے ملاقات کیلئے کابل روانہ ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG