رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں ورکنگ باؤنڈری پر نئی 'اسمارٹ باڑ' کا افتتاح


جموں و کشمیر میں ورکنگ باؤنڈری پر لگی باڑ۔ فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے پیر کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے جموں علاقے میں بھارت-پاکستان سرحد پر ایک نئی فینسنگ یا باڑ کے دو آزمائشی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ بھارت کے سرحدی حفاظتی دستے بارڈر سیکیورٹی فورس یا بی ایس ایف کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سمارٹ فنسینگ میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے اپنے ایک دورے کے دوران اس طرح کی ٹیکنالوجی کو استعمال میں دیکھا تھا اور اب اسے بھارت میں بھی آزمایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا۔ ’’جب میں اسرائیل گیا تھا تو میں نے وہاں اس ٹیکنالوجی کو دیکھا ۔ واپسی پر ہم نے اس پر غور و خوض کیا اور اب اس کام کا آغاز ہوا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کو نقائص سے پاک بنانا ہم سب کیلئے بہت اہم ہے۔‘‘

بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ آزمائشی طور پر شروع کئے گئے ان دو منصوبوں سے سرحد کے ساڑھے پانچ کلو میٹر حصوں کا احاطہ ہو گا۔ یہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلیٰ ٹیکنالوجی کا نگرانی کرنے والا سسٹم ہے جو ان کے بقول زمین، پانی اور یہاں تک کہ ہوا اور زیرِ زمین بھی ایک نہ دکھائی دینے والی برقیاتی رکاوٹ پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پوشیدہ باڑ سرحد پار سے بالخصوص انتہائی دشوار علاقوں سے در اندازی اور دوسری غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو گی۔

بی ایس ایف عہدیداروں کے مطابق اس نئی باڑ میں نگرانی کے لئے اسٹیٹ آف دی آرٹ سرویلنس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو زمین کے اوپر سے یا سرنگوں کے ذریعے کی جانے والی در اندازی کے بارے میں فوری اطلاع دے گی۔ باڑ میں تھرمل امیجر، انفرا ریڈ اور لیزر پر مبنی چوکس کرنے والے آلات نصب ہوں گے-

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ بھارتی ریاست آسام میں بھی بنگلہ دیش کے ساتھ لگنے والی سرحد کے تقریبا" ساٹھ کلو میٹر کے حصے پر اسی طرح کی باڑ لگائی جارہی ہے۔

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش سے لگنے والی سرحدوں کے دو ہزار چھبیس کلو میٹر حصے پر جسے وہ غیر محفوظ سمجھتا ہے اسی ٹیکنالوجی کے تحت سمارٹ باڑ لگانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی 745 کلو میٹر لمبی حد بندی لائین کے کئی حصوں کو بھی اس منصوبے کے تحت لایا جائے گا۔ اس عملاً تسلیم کی جانے والی سرحد پر بھارت نے کئی سال پہلے ایک بارہ فٹ چوڑی باڑ لگائی تھی لیکن بھارت کا کہنا ہے کہ مسلمان عسکریت پسند اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد اس رکاوٹ کے باوجود پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

بھارتی عہدیدار دعویٰ کرتے ہیں کہ 198 کلو میٹر جموں سیالکوٹ سرحد کے کئی حصوں کو بھی اس طرح کی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سرحد بھارت میں انٹرنیشنل بارڈر اور پاکستان میں ورکنگ باؤنڈری کہلاتی ہے۔

حد بندی لائین اور ورکنگ باؤنڈری یا انٹرنیشنل بارڈر دونوں پر تعینات دو ہمسایہ ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان اکثر ساعتی مقابلے مشاہدے میں آتے ہیں حالانکہ فریقین کے درمیان نومبر 2003 میں فائر بندی کا سمجھوتہ بھی طے پایا تھا۔

اس دوران وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں سے ریاست میں اگلے ماہ سے منعقد کرائے جانے والے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’’میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ اس سیاسی عمل میں حصہ لیں۔‘‘

ریاست کی سب سے پُرانی بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس اور اس کی حریف جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کا استدلال ہے کہ اول توشورش زدہ ریاست میں پائی جانے والی زمینی اور حٖفاظتی صورتِ احوال دیہی اور شہری بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے سازگار نہیں ہیں اور پھر آئینِ ہند کی دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 کے بارے میں نئی دہلی اور سرینگر میں حکومتوں کے مبہم اور غیر واضح موقف نے کشمیری عوام میں ہیجان پیدا کر دیا ہے۔

بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہم خیال سیاسی جماعتیں اور قائدین آئینِ ہند کی اُن دفعات کو جن کے تحت ریاست کو ہند یونین میں خصوصی پوزیشن حاصل ہے، منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان دونوں دفعات کو بھارتی سپریم کورٹ میں چلینج کیا گیا ہے۔ عدالتِ اعظمیٰ کے ایک سہ رکنی بینچ نے 31 اگست کو دفعہ 35 اے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت اگلے سال جنوری کے دوسرے ہفتے تک موخر کر دی تھی اور یہ کہا تھا کہ ایسا نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں عنقریب ہونے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے-

پیر کو بھارت کی مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔ پارٹی نے کہا کہ ریاست کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کے باوجود انہیں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد کرانے کا فیصلہ نئی دہلی میں برسرِ اقتدار بی جے پی کے زعماء کی ہٹ دھرمی اور تکبر کو ظاہر کرتا ہے۔

اس دوراں پیر کو وادئ کشمیر اور ریاست کے جموں خطے کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک عام ہڑتال کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہو گیا۔ ہڑتال کے لئے اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے کی تھی اور اس کا مقصد وادئ کشمیر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارتی سرکاری دستوں کی کارروائیوں میں تیرہ مشتبہ عسکریت پسندوں اور ایک شہری کی ہلاکت پر ماتم اور احتجاج کرنا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG