رسائی کے لنکس

logo-print

افغان اسپتال پر بمباری کی آزادانہ تحقیقات کا منصوبہ


بمباری کا نشانہ بننے والا اسپتال

اپنے فرانسیسی نام کے مخفف ایم ایس ایف سے جانی جانے والی طبی امداد کی تنظیم نے کہا ہے کہ ایک ریاست کی درخواست پر سوئٹزرلینڈ میں قائم ’انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین فیکٹ فائنڈنگ مشن‘ کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس ریاست کا نام نہیں بتایا گیا۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ افغانستان کے شہر قندوز میں اس کے ایک اسپتال پر رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والی بمباری کی تحقیقات کے لیے ایک عالمی کمیشن تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اس بمباری میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اپنے فرانسیسی نام کے مخفف 'ایم ایس ایف' سے جانی جانے والی طبی امداد کی تنظیم نے کہا ہے کہ ایک ریاست کی درخواست پر سوئٹزر لینڈ میں قائم ’انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین فیکٹ فائنڈنگ مشن‘ کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس ریاست کا نام نہیں بتایا گیا۔

ایم ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کرانے میں پہلا قدم ہے۔‘‘

تنظیم نے کہا کہ کمیشن اپنا کام شروع کرنے کے لیے افغانستان اور امریکہ سے اتفاق رائے کا انتظار کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے گزشتہ ہفتے بتایا کہ صدر براک اوباما نے ایم ایس ایف کی سربراہ سے معذرت کی اور کہا کہ ’’غلطی ہوئی اور امریکہ اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔‘‘

جوش ارنسٹ کے بقول جو ہوا صدر اوباما اس کی تہہ تک جانا چاہتے ہیں۔

ایم ایس ایف نے کہا کہ وہ تنازع کے فریقین کی اندرونی تحقیقات پر انحصار نہیں کر سکتی۔

ایم ایس ایف انٹرنیشنل کی صدر جوئین لیو نے کہا کہ ’’ہمیں معافی کے اور تعزیتی پیغام ملے ہیں مگر یہ کافی نہیں ہیں۔ ہم اب بھی اندھیرے میں ہیں کہ مریضوں اور طبی عملے سے بھرے ایک معروف اسپتال کو ایک گھنٹے سے زائد عرصہ تک بار بار بمباری کا نشانہ کیوں بنایا گیا۔ ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ کیا ہوا اور کیوں۔‘‘

افغانستان میں اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے کہا کہ امریکہ افغان فورسز کی جانب سے اسپتال میں چھپے مبینہ طالبان شدت پسندوں پر بمباری کی درخواست کے بعد 3 اکتوبر کو ہونے والی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ مگر یہ سوال ابھی باقی ہے کہ آیا امریکہ کو اس حملے کے لیے راضی ہونا چاہیئے تھا یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG