رسائی کے لنکس

'پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا فیصلہ ٹی وی اینکر کے سوال پر کیا'


سابق بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر بھارتی فضائیہ کے ایک مرکز پر تامہ نگاروں سے بات کررہے ہیں۔ فائل فوٹو

مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور جو کہ سابق فوجی میں، ایک ٹی وی چینل پر اس کی تفصیلات پیش کر رہے تھے۔ اینکر نے ان سے سوال کیا کہ ”کیا آپ کے اندر مغربی سرحد پر بھی اسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات اور اہلیت ہے؟

سہیل انجم

سابق وزیر دفاع منوہر پریکر نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور سے ایک ٹیلی ویژن اینکر کے”توہین آمیز“ سوال کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کا فیصلہ کیا تھا“۔

انہوں نے جو کہ اب گوا کے وزیر اعلی ہیں، پنجی میں جمعہ کے روز صنعت کاروں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 'سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ پندرہ ماہ قبل بنایا گیا تھا'۔

انہوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 4 جون 2015 کو شمال مشرقی علاقے کے دہشت پسند گروپ این ایس سی این نے منی پور کے چندیل ضلع میں بھارتی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا اور 18 جوانوں کو ہلاک کر دیا ۔ جب انہیں یہ اطلاع ملی تو بقول ان کے ”میں نے توہین محسوس کی کہ دو سو افراد کے ایک دہشت گرد گروپ نے 18 ڈوگرہ جوانوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ فوج کی توہین تھی۔ ہم نے دوپہر اور شام میں میٹنگ کی اور پہلی سرجیکل اسٹرائیک کا فیصلہ کیا۔ 8 جون کو اسٹرائیک کی گئی جس میں بھارت میانمار سرحد پر 70-80 دہشت گرد مارے گئے“۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ”مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور جو کہ سابق فوجی میں، ایک ٹی وی چینل پر اس کی تفصیلات پیش کر رہے تھے۔ اینکر نے ان سے سوال کیا کہ ”کیا آپ کے اندر مغربی سرحد پر بھی اسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات اور اہلیت ہے؟“

پریکر کے بقول ”میں نے اسے بڑی شدت سے سنا اور فیصلہ کیا کہ جب وقت آئے گا تو ایسا کیا جائے گا۔ 29 ستمبر 2016 کی اسٹرائیک کی تیاری 9 جون 2015 سے شروع کر دی گئی تھی“۔

خیال رہے کہ پاکستان نے سرجیکل اسٹرائیک کے بھارت کے دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسی کوئی کارروائی سرے سے ہوئی ہی نہیں ہے۔

بھارت بھی حزب اختلاف کی بعض جماعتوں نے اس دعوے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے سرجیکل اسٹرائیک کا ثبوت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

منوہر پریکر کے اس بیان پر تنازعہ کھڑا ہونا فطری ہے۔ ایک سینیر تجزیہ کار پروفیسر اپوروانند نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ بہت خطرناک بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت انتہائی غیر سنجیدہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ عوام کو اس حکومت سے محتاط رہنا چاہیے۔ کیونکہ اس ملک کے لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ یہ سرکار ٹیلی ویژن اینکر کے سوال پر فیصلے کر رہی ہے۔ اگر ایسے سوالات پر اتنے بڑے فیصلے کیے جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ حکومت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ان میں نہ تو گہرائی ہے اور نہ ہی ٹھہراؤ ہے۔ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ ڈور کا ہونا ملک کی بیرونی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہے اور اندرونی سلامتی کے لیے بھی“۔

سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے بھی اس بیان پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مرکز کی اسٹریٹجک سیکیورٹی پالیسی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ ”اگر ایک نیوز اینکر کے مبینہ سوال کی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کیا جاتا ہے تو پھر اس ملک کے عوام کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں“۔

خیال رہے کہ منوہر پریکر نے نہ تو ٹی وی اینکر کا نام بتایا اور نہ ہی وقت اور تاریخ ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG