رسائی کے لنکس

بھارت اور افغانستان کے درمیان فضائی راستے سے تجارت شروع


(فائل فوٹو)

افغانستان سے لگ بھگ 60 ٹن تجارتی سامان سے لدا پہلا مال بردار ہوائی جہاز پیر کی شب نئی دہلی پہنچا۔

بھارت اور افغانستان کے درمیان ایئر کارگو سروس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

مال بردار ہوائی جہاز کے استعمال کے ذریعے تجارتی سامان کی ترسیل کا ایک مقصد خشکی سے گھرے افغانستان کو بھارت اور اس کے راستے اہم عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

افغانستان اپنی غیر ملکی تجارت کے لیے پاکستان میں کراچی کی بندر گاہ پر انحصار کرتا رہا ہے، یا پھر بھارت تک سامان کی ترسیل کے لیے واہگہ اٹاری بارڈ استعمال کرتا ہے۔

پاکستان نے افغانستان کو زمینی راستے سے محدود تعداد میں تجارتی سامان بھارت بھیجنے کی اجازت دے رکھی ہے تاہم اِسی راستے سے افغانستان کو بھارت سے درآمدات کی اجازت نہیں۔

پاکستان کے زمینی راستے کو استعمال میں لائے بغیر بھارت اور افغانستان کے درمیان یہ پہلا فضائی تجارتی رابطہ ہے۔

افغانستان سے لگ بھگ 60 ٹن تجارتی سامان سے لدا پہلا مال بردار ہوائی جہاز پیر کی شب نئی دہلی پہنچا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایئر فریٹ ایئر کوریڈور یا فضائی راہداری کے منصوبے کے تحت افغانستان سے برآمد کیے جانے والے سامان کی یہ پہلی کھیپ تھی۔

اس سے قبل اتوار کو 100 ٹن تجارتی سامان سے لدا ہوا ایک ہوائی جہاز نئی دہلی سے کابل پہنچا تھا۔ اس مال بردار ہوائی جہاز کے ذریعے بھیجی گئی اشیا میں ادویات، طبی سامان اور پانی صاف کرنے آلات شامل تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری یعنی ’ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ‘ کا معاہدہ 2010ء میں طے پایا تھا، جس کے تحت افغانستان کے سامان سے لدے ٹرکوں کو طے شدہ مخصوص راستے کے ذریعے لاہور کے قریب واہگہ سرحد تک اور کراچی میں ساحل سمندر تک جانے کی اجازت دی گئی تھی جہاں سے یہ سامان بھارت بھیجا جا سکتا ہے۔

جب کہ پاکستانی ٹرکوں کو افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لیکن مختلف انتظامی وجوہات کی بنا پر اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا رہا۔

بھارتی اور افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی تجارتی روابط کی بحالی ایک نیا باب ہے اور اس توقع کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے مزید شہروں کے درمیان بھی کارگو پروازیں شروع ہوسکیں گی۔

گزشتہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ بھارت کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم مودی نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے ’’ایئر فریٹ کاریڈور‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا تھا۔

چاروں طرف سے خشکی سے گھرے افغانستان کو بین الاقوامی تجارت کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے زمینی اور بحری راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

کئی دہائیوں سے افغانستان کی بیشتر تجارت پاکستان کے ذریعے ہوتی رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بعض پیچیدہ قوانین، انتظامی دشواریوں اور سامان تجارت پر زیادہ سفری لاگت کے باعث افغان تاجروں نے ایران کا رخ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دوطرفہ کشیدگی کے سبب رواں سال پاکستان نے افغانستان سے اپنے سرحد راستے بھی کئی ہفتوں تک بند رکھے، جس سے تجارت کو بہت نقصان پہنچا تھا۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے مطابق کشیدگی کے سبب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم 40 فیصد تک کم ہوا ہے۔

پاک افغان تجارتی تعلقات میں پیش رفت نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدہ تعلقات بھی ہیں۔

افغانستان کی خواہش رہی ہے کہ وہ پاکستان کے راستے بھارت سے تجارت کرے مگر پاکستان سکیورٹی تحفظات کے باعث اس کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG