رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: صنعتی حادثے کے 30 سال بعد بھی مثاثرین نالاں


حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ 30 سال گزرنے کے باوجود یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں کئی طبی نقائص پائے جاتے ہیں کیونکہ ان کے والدین اس گیس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

صنعتی شعبے میں دنیا کا بدترین حادثہ قرار دیئے جانے والے واقعے کو 30 سال مکمل ہونے پر بدھ کو بھارتی شہر بھوپال میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اس واقعے کے ذمہ داران کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔

تین دسمبر 1984ء کو اس شہر میں قائم یونین کار بائیڈ کے پلانٹ سے 40 ٹن مہلک میتھیل اسوسائی نائیٹ گیس خارج ہو کر فضا میں شامل ہونے سے تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے جب کہ اس سے مثاثر ہو کر مرنے والوں کی تعداد بعد میں 25 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔

بھارت کے سرکاری اندازوں کے مطابق اس گیس سے لگ بھگ پانچ لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ 30 سال گزرنے کے باوجود یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں کئی طبی نقائص پائے جاتے ہیں کیونکہ ان کے والدین اس گیس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

یہ حادثہ بھارت کے لیے آج بھی ایک ناسور ہے اور اکثریت کا خیال ہے کہ 47 کروڑ ڈالر کا یونین کاربائیڈ منصوبہ ایک تضحیک ہے۔

مظاہرین اس بات پر بھی نالاں دکھائی دیے کہ اس حادثے کے بعد متاثرین کو یا تو پورا معاوضہ ابھی تک نہیں دیا گیا اور جو دیا گیا وہ ناکافی ہے۔

بھوپال کے اس صنعتی یونٹ کے آٹھ ملازمین کو موت کا سبب بننے والی غفلت کے مرتکب ہونے پر دو، دو سال قید کی سزائیں دی گئی تھیں لیکن مثاثرین کا کہنا ہے کہ یہ ناکافی ہے۔

مظاہرین کے منتظمین میں شامل بالکرشن نامدیو کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت اب تک مثاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ماہرین ماحولیات متنبہ کر چکے ہیں کہ بھوپال کے اس حادثے کے اثرات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے کیونکہ زہریلا مادہ یہاں کی مٹی کے علاوہ زیر زمین پانی کو بھی آلودہ کر چکا ہے جو کہ یہاں کے رہائشیوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG