رسائی کے لنکس

logo-print

بالاکوٹ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف تھا، پاکستان کے نہیں: بھارت


بھارت کے سیکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نئی دہلی میں میڈیا کو بالاکوٹ میں فضائی حملے کے متعلق بریفنگ دے رہے ہیں۔ 26 فروری 2019

بھار ت کے سیکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے ایل او سی کے پار جا کر بالاکوٹ میں واقع کالعدم دہشت گرد گروپ جیش محمد کے ایک بڑے کیمپ پر کارروائی کی جس میں جیش کے متعدد بڑے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کیمپ مولانا یوسف اظہر چلا رہے تھے جو کہ مولانا مسود اظہر کے برادر نسبتی تھے۔

وجے گوکھلے نے 14 فروری کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے جیش محمد نے انجام دیا تھا جس میں 40 سے زیادہ سیکورٹی اہل کار ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایسی قابل بھروسا خبریں موجود تھیں کہ جیش کے دہشت گرد بھارت کے مختلف علاقوں میں مزید فدائین حملہ کرنے والے ہیں، جس کے لیے جہادیوں کو ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر پیشگی کارروائی ضروری ہو گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بالاکوٹ میں واقع جیش کے سب سے بڑے کیمپ کو علیٰ الصبح نشانہ بنایا۔

بھارتی عہدے دار نے ہلاکتوں کی کوئی تعداد تو نہیں بتائی، البتہ دعویٰ کیا کہ اس میں بڑی تعداد میں جیش محمد کے دہشت گردوں، تربیت کاروں، سینئر کمانڈروں اور فدائین کارروائی کے لیے تیار کیے گئے جہادیوں کے گروپ کو ختم کر دیا گیا۔

وجے گوکھلے نے مزید کہا کہ اس آپریشن میں ٹریننگ کیمپ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ سویلین کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ یہ کیمپ سویلین آبادی سے دور گھنے جنگلوں میں تھا۔ سکریٹری خارجہ کے مطابق یہ ایک غیر فوجی کارروائی تھی۔

منگل کی صبح کو بھارتی وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ان کی صدارت میں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع، وزیر مالیات، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی۔

وزیر اعظم مودی نے دن کے وقت راجستھان کے چورو میں سابق فوجیوں کے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو جھکنے اور مٹنے نہیں دیں گے۔ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن میڈیا کے مطابق بھارتی جنگی طیاروں نے کنٹرول لائن کے پار 40 کلومیٹر اندر جا کر یہ کارروائی کی ہے۔

نیوز چینلوں پر مبینہ تربیتی کیمپ کی کارروائی سے قبل کی تصویر دکھائی جا رہی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کا کہنا ہے کہ اس ایکشن میں جیش محمد کے 25 ٹاپ کمانڈر ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کے وقت وزیر خارجہ سشما سوراج نے کل جماعتی اجلاس طلب کیا جس میں متعدد اپوزیشن جماعتوں نے حصہ لیا۔ سشما نے ان کو کارروائی کی تفصیلات بتائیں۔

اس موقع پر انہیں تیار کیا جانے والا ایک ڈوزئیر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف ملکوں کے سفارت کاروں کو وزارت خارجہ میں بلا کر انہیں حملے کی تفصیلات بتائی گئیں۔ انھیں بھی یہ ڈوزئیر پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کارروائی پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG