رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں بلیک بیری پہ پابندی دو ماہ کے لیے موخر


بھارتی حکومت نے بلیک بیری موبائل فونز کی سروسز پہ لگائی جانے والی مجوزہ پابندی کو دو ماہ کے لیے موخر کرتے ہوئے فون بنانے والی کینیڈین کمپنی کو حکومتی مطالبات پورے کرنے کے لیے مزید ساٹھ دن کا وقت دے دیا ہے۔

ہندوستانی وزارتِ داخلہ کی جانب سے پیر کے روز سامنے آنے والا یہ اعلان ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی حکام اور بلیک بیری فون بنانے والی فرم "ریسرچ ان موشن'"کے درمیان جاری تنازعے کا کوئی حل تاحال نہیں نکالا جاسکا۔

رواں ماہ کے آغاز میں ہندوستانی وزارتِ داخلہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اگر "ریسرچ ان موشن " نے سیکیورٹی اداروں کو بلیک بیری فونز کے ای میل اور انسٹنٹ میسیجنگ سروسز تک رسائی نہ دی تو ان دونوں سروسز پر 31 اگست سے ہندوستان بھر میں پابندی عائد کردی جائے گی۔

ہندوستانی حکام کو خدشہ ہے کہ دہشت گرد بلیک بیریز کی ای میل اور میسجنگ کی سروسز اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ حکام کے لیے بلیک بیری فونز کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات کی نگرانی اور انہیں انٹرسیپٹ کرنا ممکن نہیں۔

پیر کے روز جاری ہونے والے سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "ریسرچ ان موشن" کی جانب سے بھارتی سیکیورٹی حکام کو فون کی سروسزتک "قانونی رسائی فراہم کرنے کے لیے چند تجاویز پیش کی گئی ہیں جن پہ غور کیا جارہا ہے"۔

گزشتہ ہفتے کینیڈین فرم کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ وہ ہندوستانی حکام کو بلیک بیری فونز کی سروسز تک رسائی دینے کے معاملے پر ایک فورم تشکیل دے گی تاکہ فون استعمال کرنے والی کارپوریشنز کی مخصوص حفاظتی ضروریات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں بلیک بیری کے صارفین کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس سے قبل حفاظتی نکتہ نظر سے پائے جانے والے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی بلیک بیری کی سروسز پہ پابندی لگانے کا عندیہ دےچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG