رسائی کے لنکس

بھارت کا جیش کے مرکز پر حملے کا دعویٰ، پاکستان کی تردید

بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ میں کشمیر میں سرگرم مسلح تنظیم جیشِ محمد کے ایک کیمپ کو بمباری کرکے تباہ کردیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب 3:30 بجے کے لگ بھگ 12 بھارتی طیاروں نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان کی حدود میں کارروائی کی۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں جیشِ محمد کے کئی دہشت گرد، ان کے تربیت کار اور کمانڈر مارے گئے۔

پاکستان نے بھارت کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی طیارے صرف تین سے چار میل تک لائن آف کنٹرول کے اندر آئے اور پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی پر واپس چلے گئے۔

پاکستان نے بھارت کو سرحد کی خلاف ورزی کا جواب دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔

12:23 26.2.2019

کون سا بالاکوٹ؟ پاکستانی مؤقف پر سوالات

پاکستانی ٹی وی چینلز پر بعض تجزیہ کاروں نے پاکستانی فوج کے ترجمان کے بیان پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ بالاکوٹ کا علاقہ پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے جو کنٹرول لائن سے بہت دور ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بھارتی طیارے کنٹرول لائن پار کرکے صرف تین سے چار میل تک اندر آئے تو ان کا 'پے لوڈ' پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں کیسے گرا؟

مظفر آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے روشن مغل کے مطابق انہیں لائن آف کنٹرول کے نزدیک چکوٹھی کے قصبے کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے رات تین بجے کے قریب کئی طیاروں کے گزرنے کی زوردار آوازیں سنی تھیں جو نچلی پرواز کر رہے تھے۔

کنٹرول لائن پر واقع چکوٹھی سے بالاکوٹ تک کا زمینی فاصلہ
کنٹرول لائن پر واقع چکوٹھی سے بالاکوٹ تک کا زمینی فاصلہ

روشن مغل کے مطابق عینی شاہدین کے بیانات سے بظاہر لگتا ہے کہ بھارتی طیاروں نے چکوٹھی کے نزدیک سے لائن آف کنٹرول پار کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چکوٹھی سے مظفر آباد بذریعہ سڑک 55 کلومیٹر دور ہے جب کہ بالا کوٹ اس سے مزید 45 کلومیٹر آگے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بالاکوٹ نام کا ایک گاؤں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عین لائن آف کنٹرول پر بھی واقع ہے لیکن وہ مظفر آباد سے کم از کم 200 کلومیٹر دور نکیال سیکٹر میں ہے۔

12:32 26.2.2019

بھارت کا جیشِ محمد کا کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ

بھارت نے پاکستان میں سرحد پار کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کی حدود میں کشمیر میں سرگرم مسلح تنظیم جیشِ محمد کا ایک کیمپ تباہ کردیا ہے۔

پاکستانی الزامات کے کئی گھنٹے بعد نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نے کہا کہ بھارتی طیاروں نے منگل کو علی الصباح پاکستان کے علاقے بالا کوٹ میں جیشِ محمد کے سب سے بڑے کیمپ کو نشانہ بنایا۔

نئی دہلی سے وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم کے مطابق وجے گوکھلے نے کہا کہ فضائی کارروائی ممکنہ فدائین کے حملوں کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نئی دہلی میں صحافیوں کو پاکستان کی حدود میں بھارت کی فضائی کارروائی کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔
بھارت کے سیکریٹری خارجہ وجے گوکھلے نئی دہلی میں صحافیوں کو پاکستان کی حدود میں بھارت کی فضائی کارروائی کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ نے دعویٰ کیا کہ کیمپ مولانا یوسف اظہر المعروف استاد غوری کی نگرانی میں چلایا جا رہا تھا جو ان کے بقول جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا بردارِ نسبتی ہے۔

وجے گوکھلے نے کہا کہ حملے میں کیمپ میں موجود بڑی تعداد میں جیش کے دہشت گرد، انہیں تربیت دینے والے اساتذہ اور تنظیم کے سینئر کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

انہوں نے نے دعویٰ کیا کہ بھارت کو ملنے والی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق جیشِ محمد بھارت کے کئی علاقوں میں خود کش حملوں کی تیاری کر رہی تھی اور کیمپ میں اس مقصد کے لیے فدائین کو تربیت دی جا رہی تھی۔

12:34 26.2.2019

پلوامہ حملے کے بعد سے کشیدگی جاری

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے قبل بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارت کی وفاقی پولیس کے ایک قافلے پر خودکش حملے میں 49 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری بھارتی کشمیر میں سرگرم مسلح تنظیم جیشِ محمد نے قبول کی تھی جس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پاکستانی ہیں۔

پلوامہ میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کے بعد جائے واقعہ کا منظر (فائل فوٹو)
پلوامہ میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کے بعد جائے واقعہ کا منظر (فائل فوٹو)

بھارت نے حملے کی ذمہ داری براہِ راست پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اسے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

پاکستان اس الزام کی تردید کرچکا ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔

12:46 26.2.2019

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

پاکستان کے ارکانِ پارلیمان نے بھارت کی جانب سے سرحد کی خلاف ورزی پر فوراً پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کی جماعتوں کے کئی ارکان نے حکومت سے صورتِ حال پر غور کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

مشترکہ اجلاس کی تجویز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے دی جس کی مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور حکمران جماعت تحریکِ انصاف کے رکن فخر امام نے بھی تائید کی۔

ارکانِ پارلیمان نے مسلم ملکوں کی نمائندہ تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے کشمیر کی صورتِ حال پر بلائے جانے والے خصوصی اجلاس میں بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو شرکت کی دعوت دینے پر بھی کڑی تنقید کی اور حکومت سے اجلاس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG