رسائی کے لنکس

logo-print

’امریکی سیاح کی تلاش روکی جائے، جزیرے میں جراثیم پہنچ سکتے ہیں‘


امریکی مہم جو جان ایلن چاؤ، بھارتی جزیرے شمالی سنٹینل میں جانے کے بعد واپس نہیں آیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسے قدیم قبائلیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ یہ تصویر چاؤ کے سوشل میڈیا سے لی گئی ہے۔ 23 نومبر 2018

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے بھارتی پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ چند روز پہلے خلیج بنگال میں واقع ایک جزیرے پر جانے والے امریکی مہم جو کی تلاش ترک کر دے جس کے متعلق خیال ہے کہ اسے جزیرے پر آباد قدیم قبائلیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ باہر کی دنیا کے انسانوں کے جزیرے پر جانے سے بیماریوں کے جراثیم اور وائرس اس الگ تھلگ جزیرے شمالی سنٹینل میں پہنچ کر قبائلیوں کی نسل کے لیے خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔

26 سالہ امریکی مہم جو جان ایلن چاؤ، جس کے متعلق خیال ہے کہ وہ خلیج بنگال کے جزائر انڈومان اور نیکوبار میں واقع شمالی سنٹینل میں عیسائیت کی تبلیغ کرنا چاہتا تھا، جزیرے پر اپنے پاؤں اتارنے کے بعد واپس نہیں آیا۔

اسے وہاں تک پہنچانے والے کشتی رانوں نے بتایا ہے کہ جیسے ہی چاؤ نے اپنے قدم جزیرے پر رکھے قدیم قبائلیوں نے اس پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی اور جب وہ زخمی ہو کر گر پڑا تو وہ اس کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹ کر اپنے ساتھ جزیرے کے اندر لے گئے۔

شمالی سینٹنل میں لگ بھگ ڈیڑھ سو قبائلی رہتے ہیں جن کے متعلق خیال ہے کہ وہ آج بھی پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے ان کی شناخت اور انفرادیت قائم رکھنے کے لیے وہاں جانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

چاؤ نے کشتی رانوں کو بھاری معاوضہ دے کر اسے جزیرے کے قریب اتارنے پر رضامند کیا تھا۔

شمالی سنٹینل جزیرے میں آباد قبیلے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق پتھر کے دور سے ہے۔ اور وہ آج بھی اسی انداز میں زندگی گزار رہے ہیں۔
شمالی سنٹینل جزیرے میں آباد قبیلے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق پتھر کے دور سے ہے۔ اور وہ آج بھی اسی انداز میں زندگی گزار رہے ہیں۔

بھارتی پولیس، بشریات اور نفسيات کے ماہرین کے ساتھ مل کر چاؤ کی نعش قبائلیوں سے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے ایک گروپ ’ سروائیول انٹرنیشنل‘نے کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش بھارتی عہدے داروں اور سینٹنل جزیرے کے قبائلیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکی ہے، کیونکہ وہاں جانے والے اپنے ساتھ بیرونی دنیا کی بیماریوں کے جراثیم لے جائیں گے جب کہ واپسی پر جزیرے کی بیماریوں کے جراثیم ان کے ساتھ آئیں گے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ جراثیم یا وائرس دونوں کے لیے اجنبی ہوں گے اس لیے ممکن ہے کہ دونوں ہی کے پاس اس کا علاج نہ ہو۔

تنظیم نے کہا ہے کہ چاؤ کی نعش واپس لانے کی مہم قبائلیوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ دنیا کے چند قدیم ترین قبائل میں شامل میں، جس کا تعلق پتھر کے زمانے سے ہے اور وہ آج بھی اسی طریقے سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کسی بیماری کے جراثیم مثلاً فلو، خسرہ، ہیضہ وغیرہ کے وہاں پہنچنے سے ان کی نسل ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ وبائیں وہاں موجود نہیں ہیں۔

انسانی حقوق کا گروپ’ سروائیول انٹرنیشنل‘ قدیم قبائلیوں کی بقا کے لیے کام کرتا ہے۔

خبررساں ادارے روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں جزائر انڈومان اور نیکوبار کے ڈائریکٹر جنرل پولیس دپندر پاتھک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پولیس مسلسل ماہرین بشریات اور نفسیات سے رابطے میں ہے اور قبائلیوں کو پریشان کیے بغیر ان سے رابطے کی حکمت عملی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اعلیٰ پولیس عہدے دار کا کہنا تھا کہ ہمارا قبائلیوں سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ماہرین بشريات، صحافیوں اور سرگرم کارکنوں کے ایک گروپ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگر چاؤ کی نعش حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھی گئیں تو اس کے نتیجے میں مزید تشدد بھڑک سکتا ہے جس سے انسانی جانوں کا غیر ضروری نقصان ہو گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سنٹینل قبیلے کے لوگوں کے حقوق اور خواہشات کا احترام کرنے کی ضرورت ہے اور تنازع اور کشیدگی بڑھا کر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے نتیجے میں ایک ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جو زیادہ نقصان کا سبب بنے۔

چاؤ نے سوشل میڈیا پر خود کو ایک مہم جو، اور نئی دنیائیں تلاش کرنے والے کے طور پر پیش کیا تھا اور اس نے اپنی ایک چھوٹی سی کشتی میں 15 نومبر کو شمالی سنٹینل جزیرے کے کئی چکر لگائے تھا۔

پولیس نے ان سات افراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے چاؤ کے جزیرے کے قریب پہنچانے میں مدد دی تھی۔

جزائر انڈومان اور نیکوبار کے حکام نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی سنٹینل جزیرے میں غیر ملکیوں اور بھارتیوں کے جانے پر پابندی بدستور عائد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG