رسائی کے لنکس

بھارت: گائے ذبحہ کرنے پر پابندی کا حکم معطل


ایک گائے لکھنئو میں بیف کے کبابوں کی ایک صدی سے زیادہ پرانی دکان ’ٹنڈے کبابی‘ کے سامنے سے گذر رہی ہے۔ فائل

پچھلے ہفتے وزیر أعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس میں گوشت بیچنے اور خریدنے والوں سے یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ وہ تحریری طور پر یہ وعدہ کریں کہ جو جانور ہندوؤں کے مقدس ہے، اسے خوراک کے لیے ذبحہ نہیں کیا جائے گا۔

جنوبی بھارت کی ایک اعلیٰ عدالت نے مرکزی حکومت کی جانب سے پچھلے ہفتے گائے کے ذبحہ پر عائد کی جانے والی پابندی کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

ریاست تامل ناڈو میں واقع مدراس کی ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو منگل کے روز اس نئے قانون کی معطلی کے خلاف اپنا جوا ب جمع کرانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اپنے لیے خوراک کا انتخاب کرنا کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے۔

پچھلے ہفتے وزیر أعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس میں گوشت بیچنے اور خریدنے والوں سے یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ وہ تحریری طور پر یہ وعدہ کریں کہ جو جانور ہندوؤں کے مقدس ہے، اسے خوراک کے لیے ذبحہ نہیں کیا جائے گا۔

بھارت کی اکثر ریاستوں میں گائے ذبحہ کرنے پر پابندی عائد ہے، لیکن بڑا گوشت ملک کے جنوب اور شمال مشرق میں واقع بہت سی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ریاست تامل ناڈو اور کیرالا میں بڑے گوشت پر پابندی کےحکم کے خلاف احتجاجاً پچھلے چند دنوں کے دوران نوجوان بڑےگوشت کی پارٹیاں کرتے رہے ہیں جن میں بڑاگوشت پکایا اور کھایا گیا تھا۔

کئی ریاستی حکومتوں نے اس پابندی پر معاشی حوالے سے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بڑے جانوروں اور چمڑے کی برآمد سے منسلک لاکھوں افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔

بنیاد پرست ہندوؤں کے گروپس سن 2014 سے، جب سے نریندر مودی وزیر أعظم بنے ہیں، ملک بھر میں گائے ذبحہ کرنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

کم از کم ایک درجن افراد کو، جن میں زیادہ مسلمان تھے، ان گروپس کی جانب بڑا گوشت کھانے یا بیلوں اور گائیوں کو سمگل کرنے کے الزامات میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG