رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کا مذہبی آزادی کے نگران امریکی کمیشن کو ویزہ دینے سے انکار


2015ء میں یو ایس سی آئی آر ایف کی ایک رپورٹ میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بھارت میں گزشتہ تین سالوں میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تشدد میں متواتر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت نے دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لینے والے امریکی کمیشن کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا جس پر کمیشن نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم "یو ایس سی آئی آر ایف" کے تین رکنی وفد نے جمعہ سے بھارت کا دورہ شروع کرنا تھا جس میں اس نے نئی دہلی اور ممبئی میں حکام، مذہبی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔

کمیشن کے چیئرمین رابرٹ جارج نے ایک بیان میں کہا کہ "ہمیں بھارتی حکومت کی طرف سے (ویزہ نہ دیے جانے کے معاملے) پر شدید مایوسی ہوئی۔ ایک تکثیری اور جمہوری ریاست اور امریکہ کا قریبی شراکت دار ہونے کے ناطے بھارت کو ہمیں دورے کی اجازت دینے پر اعتماد ہونا چاہیے تھا۔"

ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن بہت سے ممالک بشمول پاکستان، سعودی عرب، ویتنام، چین اور میانمار کا دورہ کر چکا ہے جن میں وہ ملک جن پر مذہبی آزادی کی بدترین پامالی کا الزام عائد کیا جاتا ہے، بھی شامل ہیں۔

"یہ توقع کی جانی چاہیئے تھی کہ بھارتی حکومت ان ممالک کی نسبت زیادہ شفافیت کی اجازت دیتا اور کمیشن کو براہ راست اپنا موقف پیش کرنے کے موقع کا خیرمقدم کرتا۔"

واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کی طرف سے کمیشن کے ارکان کو ویزہ جاری نہ کرنے کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور اس ضمن میں رابطے کی کوششیں بھی بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔

یہ کمیشن دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلق سفارشات امریکی انتظامیہ اور کانگریس کو پیش کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی دو بار اس کے ارکان کو بھارتی ویزہ جاری کرنے سے انکار کیا جا چکا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے بہتر ہوتے تعلقات کے باوجود بھی گزشتہ نومبر میں بھارت نے انسانی اسمگلنگ کے انسداد کے لیے خصوصی امریکی نمائندے کو ویزہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

2015ء میں یو ایس سی آئی آر ایف کی ایک رپورٹ میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بھارت میں گزشتہ تین سالوں میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تشدد میں متواتر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG