رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: ہربچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کاقانون


بھارت میں اس تاریخ ساز قانون پر عمل شروع ہوگیا ہے جس میں تعلیم کے حصول کو چھ سے14 سال تک کی عمر کے ہر بچے کے بنیادی حق کے طورپر تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں نوعمر افراد کی تعداد دنیابھر میں سب سے زیادہ ہے،ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کی راہ میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جمعرات کے روز قوم سے اپنے ایک شاذونادر خطاب میں ہر بچے کے لیے تعلیم کے حصول کے حق کا اعلان کرتے ہوئے اپنی حکومت کے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر بچے کے لیے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

وزیر اعظم جن کاتعلق ایک دیہی علاقے سے ہے اور جنہوں نے اقتصادیات میں اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیمرج سے حاصل کی ہے، اپنی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے ہر بچے کو اسکول بھیجنے کی اہمیت پر زوردیا۔

انہوں نے کہا کہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ بچپن میں مجھے طویل فاصلہ پیدل طے کرکے سکول جانا پڑتا تھا۔ میں مٹی کے تیل کے ایک لیمپ کی مدھم روشنی میں پڑھتاتھا۔ اور آج میں جوکچھ ہوں، وہ تعلیم کی وجہ سے ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ علم کی روشنی ہر بھارتی بچے، لڑکی اور لڑکے تک پہنچے۔

تعلیم حاصل کرنے کے حق کا بل ، چھ سے 14 سال کی عمر کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی پرائمری کے نفاذ کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔

وزیراعظم من موہن سنگھ نے سماجی حیثیت یا جنس کی تفریق کے بغیر ہر بچے کے لیے سکول تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کافی فنڈز دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ اندازوں کے مطابق اگلے پانچ برسوں میں اس قانون پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو تقریباً 38 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

بھارت میں سکول نہ جاسکنے والے بچو ں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ ہے۔ ان میں زیادہ ترلڑکیاں ہیں جو سکول جانے کی بجائے گھر کے کام کاج کرتی ہیں یا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

بچوں کے حقوق کی مہم چلانے والوں نے اس قانون کوسراہاہے ۔ مگرانہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس قانون کو حقیقت بنانے کی راہ میں بہت سے چیلنجز حائل ہیں۔

اس سلسلے کا ایک بڑا چیلنج ، خاص طورپر دیہی علاقوں کے سرکاری سکولوں میں مزید سہولتوں اور تربیت یافتہ اساتذہ کی بڑے پیمانے پر فراہمی کا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس منصوبے کے لیے دس لاکھ مزید اساتذہ کی ضرورت ہوگی۔

شیریں ملر ، نئی دہلی میں بچوں کے تحقظ سے متعلق ایک تنظیم میں ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں اکثر سکولوں کو درپیش مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے ریاست راجستھان کے ایک گاؤں کی مثال دی ، جس کا انہوں نے بدھ کے روز دورہ کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سکول کی عمارت موجود تھی مگر مناسب تعداد میں اساتذہ نہیں تھے۔دیہاتیوں نے شکایت کی ٹیچر وہاں ہونے کے باوجود بچوں کو پڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔وہ ریڈیو سنتے رہتے ہیں اس لیے دیہاتی اپنے بچوں کو کھیتوں میں کام کرنے کے لیے بھیجے رہے تھے۔ان کا کہناتھاکہ سب سے اہم مسئلہ بڑی تعداد میں اساتذہ کی تریبت کاہے۔

بھارت میں خواندگی کا تناسب 64 فی صد ہے۔ مگر مطالعاتی جائزوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ایسے افراد کو بھی پڑھے لکھوں میں شمار کیا گیا ہے جو شاید ہی پڑھ یا لکھ سکتے ہوں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ایک ایسے ملک میں جہاں 15 سال سے کم عمر افراد کی تعداد ایک تہائی ہے،معیاری تعلیم کی فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے۔


XS
SM
MD
LG