رسائی کے لنکس

logo-print

کانگریس کی حمایت، بی جے پی امام بخاری سے ناراض


شکایت میں کہا گیا ہے کہ امام بخاری نے 4 اپریل کو ناصرف ملک بھر کے مسلمانوں کو کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ووٹ دینے کی پرزور اپیل کی تھی، بلکہ کانگریسی رہنما سونیا گاندھی نے بھی ان سے ملاقات کی تھی

بھارتیہ جنتا پارٹی، جامع مسجد دہلی کے امام سید احمد بخاری کی جانب سے مسلمانوں کی حمایت پر ناراض ہوگئی ہے۔

اُس کا کہنا ہے کہ یہ ’کھلی فرقہ واریت‘ ہے ، الیکشن کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرے اور پولیس ان کے خلاف ’ایف آئی آر‘ درج کرے۔

بھارتی جریدے ’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق، مشرقی پنجاب کے شہر چندی گڑھ میں بی جے پی کے مقامی رہنماوٴں کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی تحریری شکایت میں کہا گیا ہے کہ امام بخاری نے 4 اپریل کو ناصرف ملک بھر کے مسلمانوں کو کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ووٹ دینے کی پرزور اپیل کی تھی، بلکہ کانگریسی رہنما سونیا گاندھی نے بھی ان سے ملاقات کی تھی۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں امام بخاری نے کانگریسی رہنما سونیا گاندھی کو مسلمانوں کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

پی جے پی نے اِسے ’کھلی فرقہ واریت‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت خلاف قانون ہے، اس لئے الیکشن کمیشن ان کے خلاف کاررائی کرے۔

امام بخاری نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کانگریس کو ووٹ دیں، کیوں کہ کانگریس نے یقین دلایا ہے کہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG