رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: رائے عامہ کے جائزوں میں 'بی جے پی' آگے


تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں بھی حتمی نتائج رائے عامہ کے ابتدائی جائزوں کے برعکس ہوتے رہے ہیں۔

بھارت میں دنیا کے مہنگے اور طویل ترین عام انتخابات پیر کو نویں اور آخری مرحلے کی پولنگ ختم ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوگئے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد کو دیگر پارٹیوں پر سبقت حاصل ہے لیکن حتمی نتائج کا اعلان 16 مئی کو کیا جائے گا۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں بھی حتمی نتائج رائے عامہ کے ابتدائی جائزوں کے برعکس ہوتے رہے ہیں۔

تقریباً ایک دہائی تک اقتدار میں رہنے والی جماعت کانگریس کو حالیہ برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر بدعنوانی کے اسکینڈلز، افراط زر میں بے پناہ اضافے اور سست اقتصادی ترقی جیسے مسائل کا سامنا رہا۔

اسی تناظر میں توقع کی جارہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ بی جے پی وزات عظمیٰ کے لیے نریندر مودی کو اپنا امیدوار نامزد کر چکی ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق تحقیق کرنے والے ایک گروپ سی۔ووٹر کے جائزے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں لوک سبھا میں 289 نسشتیں حاصل کر سکتی ہیں۔

ایسے ہی ایک اور گروپ اے بی پی۔ نیئلسن نے توقع ظاہر کی ہے کہ بی جے پی کا اتحاد 281 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

رائے عامہ کے جائزوں میں بی جے پی کی متوقع سبقت کی خبر پر بھارت کے بازار حصص میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ منگل کی صبح اسٹاک انڈیکس میں 1.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا جب کہ پیر کو 2.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

بعض مبصرین کے مطابق سرمایہ کار محسوس کرتے ہیں کہ بی جے پی کی کامیابی سے بھارت کی سست رفتار اقتصادی ترقی تیزی میں تبدیل ہوجائے گی۔

تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے عام انتخابات نو مرحلوں میں مکمل ہوئے جس میں ایوان زیریں "لوک سبھا" کی 543 نشستوں کے لیے اہل ووٹرز کی تعداد 81 کروڑ 40 تھی اور بھارت کے الیکشن کمیشن کے مطابق 66 فیصد سے زائد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جو کہ ماضی کی نسبت ایک ریکارڈ ہے۔

حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو ایوان میں کم از کم 272 نشستیں درکار ہوں گی۔
XS
SM
MD
LG