رسائی کے لنکس

logo-print

ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان زمین پر قبضے کی جنگ


شمالی بھارت کے ایک جنگل میں ہاتھیوں کا ایک گروہ خوراک کی تلاش میں۔

اپنی ملکیت کا احساس صرف انسان کی ہی جبلت نہیں ہے بلکہ ہاتھیوں کی سرشت میں بھی شامل ہے۔ وہ اپنی ملکیت کے تحفظ کے لیے مرنے مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جس کی ایک تازہ مثال بھارتی ریاست کرناٹک میں دیکھی جا سکتی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی ریاست کرناٹک میں ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان زمین پر قبضے کی جنگ جاری ہے جس میں تین برسوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ اور 700 کے لگ بھگ ہاتھی مارے جا چکے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حتی کہ حکومت بھی یہ لڑائی نہیں رکوا سکی ہے۔

ہندوستان میں ہاتھیوں اور انسانوں کی لڑائی نئی نہیں ہے۔ برصغیر کی پرانی تاریخ میں ہر بڑی جنگ ہاتھیوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر لڑی ہے۔ ان جنگوں میں عموماً وہ راجہ فتح یاب ہوتا تھا جس کی فوج میں ہاتھی زیادہ ہوتے تھے۔ گویا ہاتھی اس دور کے بلٹ پروف ٹینک تھے۔

لیکن جب مغل آئے تو ہاتھی اپنی ہی فوجوں کو روندتے ہوئے بھا گ گئے کیونکہ مغلوں کے پاس توپیں تھیں۔ اور پھر اس کے بعد ہندوستان کے راجے مہاراجے ہاتھیوں کی بجائے توپیں رکھنے لگے اور ہاتھیوں نے جنگلوں کی راہ لی۔

تین صدیوں کے بعد آج ہاتھی گولوں کی گھن گرج سے نہیں ڈرتے ۔ کرناٹک کے جنگلوں کی قریبی آبادیوں کے لوگ کہتے ہیں ہم ہاتھیوں کو ڈرانے کے لیے کریکر چلاتے ہیں لیکن ان پر اثر نہیں ہوتا۔ وہ ہماری فصلوں اور آبادیوں میں گھس آتے ہیں اور تباہی مچا دیتے ہیں۔

ہاتھیوں کا ایک گروپ ایک ندی عبور کر رہا ہے۔
ہاتھیوں کا ایک گروپ ایک ندی عبور کر رہا ہے۔

کرناٹک میں نہ صرف ہندوستان بھر میں سب سے زیادہ ہاتھی ہیں بلکہ وہ اپنے حجم، وزن اور سائز میں بھی دیو جیسے لگتے ہیں۔ وائلڈ لائف محکمے کے سربراہ جے رام کا کہنا ہے کرناٹک کے اکثر ہاتھیوں کا وزن پانچ ٹن یعنی 11 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

کرناٹک میں ہاتھیوں کی آبادی کا اندازہ 10 ہزار کے لگ بھگ ہے ۔ ان کے ٹھکانے تو جنگلوں میں ہیں، لیکن انسانوں سے انتقام لینے کے لیے بستیوں تک میں گھسنے سے گریز نہیں کرتے۔ اور اگر انہیں کہیں اکیلا انسان مل جائے اسے اپنے پاؤں تلے کچلنے کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں۔ ماضی میں ہاتھی کے پاؤں تلے کچلنے کی سزا راجے مہار جے اور دہلی کے بادشاہ دیا کرتے تھے۔ اب کرناٹک کے ہاتھیوں نے یہ اختیار خود اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہاتھیوں کا تازہ ترین نشانہ یوگیش بنا ہے۔ اس کے بھائی گریش نے بتایا کہ ہاتھی اچانک جھاڑیوں کی پیچھے سے نمودار ہوئے۔ میرے بھائی کو پاؤں تلے کچلا اور جنگل میں غائب ہو گئے۔ یوگیش نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔ اب ان کی کفالت کون کرے گا، یہ ہاتھیوں کا مسئلہ نہیں ہے۔

کرناٹک کے اس علاقے میں کافی کے باغات کثرت سے ہیں اور زیادہ تر مقامی آبادی ان باغات میں کام کرتی ہے۔ فصلوں کو ہاتھیوں سے بچانے کے لیے اکثر مالکوں نے مضبوط باڑیں لگا رکھی ہیں۔ کئی مقامات پر تو دھاتی باڑوں میں بجلی کا کرنٹ بھی چھوڑا گیا ہے۔ جب کوئی ہاتھی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوتا ہے تو اس کا قبیلہ غضب ناک ہو کر دھاوا بول دیتا ہے اور باڑ اکھاڑ پھینکتا ہے۔ آپ کو اکثر جگہوں پر ٹوٹی ہوئی باڑیں دکھائی دیں گی۔ اور اگر رات کو آپ کا قیام کسی بستی میں ہے تو آپ کو گاہے گاہے کریکر کے دھماکے اور ہاتھیوں کے چنگھاڑیں سنائی دیتی رہیں گی۔

ماں اور بیٹا
ماں اور بیٹا

کرناٹک میں ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان اصل تنازع ملکیت کا ہے۔ یہاں کے جنگلوں میں ہاتھی ہزاروں برسوں سے رہتے چلے آ رہے ہیں، لیکن ہندوستان میں انسانی آبادی بڑھنے سے جگہ تنگ پڑ رہی ہے اور لوگ جنگل کاٹ کر بستیاں بنا رہے ہیں اور روزگار کے وسائل پیدا کر رہے ہیں۔ ہاتھی یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کوئی انہیں بے دخل کرکے ان کے آبائی جنگلوں پر قبضہ کر لے۔ وہ انسان کو غاصب سمجھتے ہیں اور جہاں اکا دکا آدمی نظر آتا ہے، وہ اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

دوسری جانب جب لوگوں کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ ہاتھیوں نے کسی شخص کو مار ڈالا ہے تو ان کے ہاتھ میں جو آتا ہے، اٹھا کر گروہ کی شکل میں بدلہ لینے جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس ادلے بدلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ اور 700 کے لگ بھگ ہاتھی مارے جا چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک دونوں فریقوں کے درمیان جنگ رکی ہے اور یہ ہی سیز فائر ہوا ہے۔

ہاتھی ہلاک ہوتا ہے تو محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے اہل کار متحرک ہو جاتے ہیں اور جب کوئی شخص ہاتھیوں کے انتقام کا نشانہ بنتا ہے تو انتظامیہ حرکت میں آ جاتی ہے۔ محکمہ جنگلات کے ایک عہدے دار بھاسکر کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے نے سرکش ہاتھیوں کے لیے ایک جیل قائم کر دی ہے۔ سرکش ہاتھی کو نشان دہی پر پکڑا جاتا ہے اور جیل میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں اسے نرم خوئی کی تربیت دی جاتی ہے۔ جیل میں اس وقت 28 ہاتھی قید ہیں جن کے پاؤں موٹی زنجیروں سے بندھے ہوئے ہیں ۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ ہاتھی سدھرے ہیں یا نہیں البتہ جیل کی شہرت دور دور تک پھیل چکی ہے اور ہاتھیوں کا بندی خانہ دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کے عہدے دار ونود کرشنن کہتے ہیں کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ کوئی باڑ اور کوئی دیوار ہاتھیوں کو روک نہیں سکتی۔ انہوں نے ایک ایس ایم ایس گروپ قائم کیا ہے جو ہاتھیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھتا ہے اور لوگوں کو فوری اطلاع دیتا ہے۔ گویا جاسوسي کا ایک نظام قائم کر دیا گیا ہے۔

لیکن ہاتھیوں کے حملے میں اپنا بھائی کھونے والے گریش کہتے ہیں کہ کچھ فرق نہیں پڑا، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ سب کچھ اسی طرح چل رہا ہے۔ یہ سب اسی طرح چلتا رہے گا۔ ہم بس یہ کر سکتے ہیں کہ ہاتھیوں کے سامنے آنے سے گریز کریں۔ وہ جنگل چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ آخر جائیں بھی کہاں، ہم نے ان کے لیے کون سی جگہ باقی چھوڑی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG