بھارت میں کسانوں کا ملک گیر احتجاج، کئی ریاستوں میں نظامِ زندگی متاثر
نئی دہلی —
بھارتی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے جب کہ کئی اپوزیشن جماعتیں بھی اس احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔
بھارت کی جن ریاستوں میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حکومت ہے وہاں ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں جب کہ مبصرین نے حکومت کی زیرِ اثر ریاستوں میں احتجاج کم زور قرار دیا ہے۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ستمبر میں منظور کیے گئے زرعی قوانین فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے تحت فصلوں کی خریداری کے لیے ملک بھر میں قائم 7000 منڈیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے باعث اُنہیں اپنی فصلوں کی معقول قیمت نہیں مل سکے گی۔
کسانوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت فصلوں کی کم سے کم قیمت مقرر کرنے کا سلسلہ جاری رکھے بلکہ اسے قانونی درجہ دیا جائے۔ کیوں کہ اس سے کاشت کاروں کو اپنی فصلوں کا بہتر معاوضہ مل سکتا ہے۔
کسان یہ بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ کاشت کاری کے لیے بجلی کی کمرشل قیمت مقرر کرنے کے بجائے جو فلیٹ ریٹ پہلے سے متعین ہیں اسے ہی برقرار رکھا جائے۔
یاد رہے کہ بھارت میں کسانوں کو فلیٹ ریٹ پر کم قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
کسانوں کا الزام ہے کہ حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں وہ صنعت کاروں اور کمپنیوں کے مفاد میں اور کسانوں کے خلاف ہیں۔
لیکن حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے مفاد کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں اور ان کے نفاذ سے کسانوں کو منڈیوں میں 'مڈل مین' سے نجات مل جائے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مذکورہ قوانین ان چھوٹے کسانوں کی مدد کے لیے بنائے گئے ہیں جو اپنی پیداوار کے لیے نہ تو سودے بازی کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
ان قوانین کے تحت کسان اپنی پیداوار کو منڈیوں کے باہر بھی ان لوگوں کو فروخت کر سکیں گے جو انہیں خریدنا چاہیں۔ وہ پرائیویٹ کمپنیوں سے بھی معاہدہ کر سکیں گے۔ اسے کنٹریکٹ فارمنگ کہتے ہیں۔
ان قوانین کے تحت کسان زرعی تاجروں یا نجی کمپنیوں کو مارکیٹ قیمتوں پر اپنی پیداوار فروخت کر سکیں گے۔ زیادہ تر کسان اپنی پیداوار حکومت کے زیرِ انتظام تھوک منڈیوں میں مقرر کردہ قیمت کے تحت فروخت کرتے رہے ہیں۔
کسانوں کو اندیشہ ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے 'ایم ایس پی' یعنی اجناس کی کم سے کم قیمت مقرر نہیں ہو سکے گی اور کاروباری ادارے ہی اجناس کی قیمتیں مقرر کریں گے۔ لہذٰا اُنہیں اپنی فصلوں کی کم قیمت ملے گی۔
بھارت بھر میں ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں دیکھا گیا۔ ان ریاستوں میں ہزاروں کسانوں نے اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند کر دیں۔ بازار، دکانیں اور تجارتی ادارے بھی مکمل طور پر بند رہے۔
متعدد ریاستوں میں نقل و حمل پر برا اثر پڑا۔ دارالحکومت دہلی میں بھی ہڑتال کا اثر نظر آیا۔ متعدد علاقوں میں بازار بند رہے اور ٹریفک کا نظام بھی متاثر رہا۔
دہلی کے داخلی راستے اب بھی بند رکھے گئے ہیں۔
مغربی بنگال، بہار، اڑیسہ اور مہاراشٹر میں کسانوں اور سیاسی کارکنوں نے ریل کی پٹریوں پر قبضہ کر لیا۔ محکمہ ریلوے نے پہلے ہی متعدد ٹریوں کی منسوخی یا ان کے روٹ بدلنے کا اعلان کیا تھا۔
جے پور میں کانگریس اور بی جے پی کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
بھارتی کاشت کاروں کا احتجاج لندن پہنچ گیا
1/13بھارت میں مظاہروں کے بعد کسانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری بڑی تعداد میں اتوار کو وسطی لندن کے علاقے اولڈوچ میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے اور ٹریفیلگر اسکوائر کے اطراف مارچ کیا۔
مزیدShow less
2/13 کاشت کاروں کا مؤقف ہے کہ نئے قوانین ان کے روزگار کے لیے خطرہ ہیں جب کہ نریندر مودی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد پرانے طریقے کار کو تبدیل کرنا اور کسانوں کو اپنی اشیا فروخت کرنے کے لیے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔
مزیدShow less
3/13برطانیہ میں بھارتی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے اور بہت سے برطانوی شہری جن کا آبائی وطن بھارت ہے، وہ وہاں سے آنے والی خبروں اور حالات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
مزیدShow less
4/13لندن مظاہرے میں سماجی فاصلے کے اصول کو مجموعی طور پر نظر انداز کیا گیا اور صرف چند مظاہرین ہی ماسک پہنے نظر آئے۔ پولیس نے کرونا وائرس کی احتیاط سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر 13 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
مزیدShow less
5/13لندن میں ہونے والے احتجاج میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔
مزیدShow less
6/13بھارت میں حکومت اور کاشت کاروں کے درمیان ہفتے کو مذاکرات ہوئے جو بے نتیجہ ثابت ہوئے جس کے سبب ڈیڈ لاک تاحالبرقرار ہے جب کہ مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو ہوگا۔
مزیدShow less
7/13لندن کے ٹریفلگر اسکوائر پر برطانیہ میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے بھارتی کاشت کاروں سے اظہار یکجتی کے طور پر ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر۔ بھارت شہریوں نے احتجاج کے دوران بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
مزیدShow less
8/13بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ہول سیل مارکیٹوں کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور کسان اپنی مرضی سے خریداروں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
مزیدShow less
9/13حکومت اصلاحات واپس لینے کے لیے تیار نہیں جب کہ احتجاجی کاشت کار اپنے مطالبات سے پیچے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہی ڈیڈ لاک کی اصل وجہ ہے۔
مزیدShow less
10/13کاشت کاروں نے دارالحکومت نئی دہلی کے نواحی علاقوں میں ڈیرے ڈالنے کے ساتھ ساتھ مختلف شاہراہیں بھی بلاک کی ہوئی ہیں۔
مزیدShow less
11/13کاشت کاروں کو خدشہ ہے کہ نئے قوانین سے بھارت کی ریگو لیٹڈ مارکیٹ ختم ہو جائے گی۔ حکومت کسانوں سے گارنٹی پرائس پر چاول اور گندم خریدنا چھوڑ دے گی اور اُنہیں پرائیوٹ خریداروں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
مزیدShow less
12/13احتجاجی کاشت کاروں کا مؤقف ہے کہ زراعت سے متعلق نئے قوانین اُن کے روزگار کے لیے خطرہ ہیں۔
مزیدShow less
13/13احتجاجی کاشت کار بھارتی حکومت سے نئے قوانین واپس لینے اور حکومت کی لازمی خریداری برقرار رکھنے سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ حتیٰ کہ دھرنے کے دوران ہی کھانا کھاتے اور سوتے ہیں۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
گورکھپور، چندولی، بستی، سون بھدر، اٹاوہ اور دیگر اضلاع میں پولیس اور سماج وادی پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ بستی میں پولیس نے مبینہ طور پر لاٹھی چارج کرکے مظاہرین کو منتشر کیا۔
وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال گھر میں نظربند
دہلی میں عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا کہ پولیس نے مرکزی حکومت کے اشارے پر وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا۔ پولیس نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
دریں اثنا وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا کہ اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اُن کے بقول گزشتہ صدی کے قوانین کے سہارے اگلی صدی میں ترقی نہیں کی جا سکتی۔
وزیرِ زراعت نریندر سنگھ تومر نے ایک بار پھر نئے قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفاد میں مذکورہ قوانین بنائے ہیں۔
انہوں نے کسانوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی کہ منڈیاں ختم نہیں کی جائیں گی اور اجناس کے کم سے کم قیمت بھی سرکاری مقرر کرے گی۔
مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا ہے کہ حکومت پرامن انداز میں اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لے گی۔
'حکومت مذکورہ قوانین واپس لینے کے لیے تیار نہیں'
لیکن کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی سینٹرل کمیٹی کے رکن اور تجزیہ کار جوگیندر شرما نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت مذکورہ قوانین کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
بھارت: زرعی بلوں کی منظوری کے خلاف ملک گیر احتجاج
1/10بھارت میں تقریباً 55 برس پرانے 'ایگریکلچر پروڈیوز مارکیٹنگ کمیٹی قانون' کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کے استحصال سے بچانا ہے۔
مزیدShow less
2/10
حکومت کا کہنا ہے کہ ان بلوں کی منظوری کے بعد کسانوں کو مزید مواقع حاصل ہوں گے۔ کاشت کاروں کو منڈیوں کے ایجنٹوں سے نجات مل جائے گی۔ کمیشن ایجنٹوں کے کردار کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کا فائدہ ہو گا۔
مزیدShow less
3/10حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ زرعی بلوں سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ حکومت جس طرح بہت سے سرکاری شعبے نجی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے، اسی طرح وہ اب زرعی شعبے کو بھی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے۔
مزیدShow less
4/10نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ وہ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور زرعی شعبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔
مزیدShow less
5/10زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بلوں کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیوں کہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے، وہاں کسانوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔
مزیدShow less
6/10متنازع بلوں کے خلاف جمعے کو تقریباً 300 کاشت کار تنظیموں اور 20 سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ریل اور سڑک کے ذریعے رابطے متاثر ہوئے۔
مزیدShow less
7/10کسانوں نے ٹریکٹرز اور واٹر ٹینکرز کی مدد سے مرکزی شاہراہیں اور ہائی ویز بند کیں جس سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔
مزیدShow less
8/10بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں بعض کسان احتجاجی طور پر ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی۔
مزیدShow less
9/10کاشت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومت ان بلوں کو واپس نہیں لے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
مزیدShow less
10/10احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
ان کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔ اس کا رویہ ایک طرح سے عوام کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور عوام اس کا جواب دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہے تو ابھی اس احتجاج کا مرکز دہلی کے بارڈرز ہیں، آگے چل کر پورا ملک احتجاج کا مرکز بن جائے گا۔
خیال رہے کہ سی پی آئی کسان تحریک کی حمایت کر رہی ہے۔
سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔