رسائی کے لنکس

بھارت میں کسانوں کا ملک گیر احتجاج، کئی ریاستوں میں نظامِ زندگی متاثر

بھارتی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے جب کہ کئی اپوزیشن جماعتیں بھی اس احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔

بھارت کی جن ریاستوں میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حکومت ہے وہاں ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہیں جب کہ مبصرین نے حکومت کی زیرِ اثر ریاستوں میں احتجاج کم زور قرار دیا ہے۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ستمبر میں منظور کیے گئے زرعی قوانین فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے تحت فصلوں کی خریداری کے لیے ملک بھر میں قائم 7000 منڈیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے باعث اُنہیں اپنی فصلوں کی معقول قیمت نہیں مل سکے گی۔

کسانوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت فصلوں کی کم سے کم قیمت مقرر کرنے کا سلسلہ جاری رکھے بلکہ اسے قانونی درجہ دیا جائے۔ کیوں کہ اس سے کاشت کاروں کو اپنی فصلوں کا بہتر معاوضہ مل سکتا ہے۔

کسان یہ بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ کاشت کاری کے لیے بجلی کی کمرشل قیمت مقرر کرنے کے بجائے جو فلیٹ ریٹ پہلے سے متعین ہیں اسے ہی برقرار رکھا جائے۔

یاد رہے کہ بھارت میں کسانوں کو فلیٹ ریٹ پر کم قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

بھارت: زرعی بلوں کے خلاف اپوزیشن اور کسان سڑکوں پر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:25 0:00

کسانوں کا الزام ہے کہ حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں وہ صنعت کاروں اور کمپنیوں کے مفاد میں اور کسانوں کے خلاف ہیں۔

لیکن حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے مفاد کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں اور ان کے نفاذ سے کسانوں کو منڈیوں میں 'مڈل مین' سے نجات مل جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ مذکورہ قوانین ان چھوٹے کسانوں کی مدد کے لیے بنائے گئے ہیں جو اپنی پیداوار کے لیے نہ تو سودے بازی کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

ان قوانین کے تحت کسان اپنی پیداوار کو منڈیوں کے باہر بھی ان لوگوں کو فروخت کر سکیں گے جو انہیں خریدنا چاہیں۔ وہ پرائیویٹ کمپنیوں سے بھی معاہدہ کر سکیں گے۔ اسے کنٹریکٹ فارمنگ کہتے ہیں۔

ان قوانین کے تحت کسان زرعی تاجروں یا نجی کمپنیوں کو مارکیٹ قیمتوں پر اپنی پیداوار فروخت کر سکیں گے۔ زیادہ تر کسان اپنی پیداوار حکومت کے زیرِ انتظام تھوک منڈیوں میں مقرر کردہ قیمت کے تحت فروخت کرتے رہے ہیں۔

کسانوں کو اندیشہ ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے 'ایم ایس پی' یعنی اجناس کی کم سے کم قیمت مقرر نہیں ہو سکے گی اور کاروباری ادارے ہی اجناس کی قیمتیں مقرر کریں گے۔ لہذٰا اُنہیں اپنی فصلوں کی کم قیمت ملے گی۔

بھارت بھر میں ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں دیکھا گیا۔ ان ریاستوں میں ہزاروں کسانوں نے اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند کر دیں۔ بازار، دکانیں اور تجارتی ادارے بھی مکمل طور پر بند رہے۔

متعدد ریاستوں میں نقل و حمل پر برا اثر پڑا۔ دارالحکومت دہلی میں بھی ہڑتال کا اثر نظر آیا۔ متعدد علاقوں میں بازار بند رہے اور ٹریفک کا نظام بھی متاثر رہا۔

دہلی کے داخلی راستے اب بھی بند رکھے گئے ہیں۔

مغربی بنگال، بہار، اڑیسہ اور مہاراشٹر میں کسانوں اور سیاسی کارکنوں نے ریل کی پٹریوں پر قبضہ کر لیا۔ محکمہ ریلوے نے پہلے ہی متعدد ٹریوں کی منسوخی یا ان کے روٹ بدلنے کا اعلان کیا تھا۔

جے پور میں کانگریس اور بی جے پی کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

بھارتی کاشت کاروں کا احتجاج لندن پہنچ گیا

<span dir="RTL">بھارت میں مظاہروں کے بعد کسانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری بڑی تعداد میں اتوار کو وسطی لندن کے علاقے اولڈوچ میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے اور ٹریفیلگر اسکوائر کے اطراف مارچ کیا۔</span>
1/13 بھارت میں مظاہروں کے بعد کسانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری بڑی تعداد میں اتوار کو وسطی لندن کے علاقے اولڈوچ میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے اور ٹریفیلگر اسکوائر کے اطراف مارچ کیا۔
<span dir="RTL">&nbsp;کاشت کاروں کا مؤقف ہے کہ نئے قوانین ان کے روزگار کے لیے خطرہ ہیں جب کہ نریندر مودی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد پرانے طریقے کار کو تبدیل کرنا اور کسانوں کو اپنی اشیا فروخت کرنے کے لیے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔</span>
2/13  کاشت کاروں کا مؤقف ہے کہ نئے قوانین ان کے روزگار کے لیے خطرہ ہیں جب کہ نریندر مودی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد پرانے طریقے کار کو تبدیل کرنا اور کسانوں کو اپنی اشیا فروخت کرنے کے لیے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔
<span dir="RTL">برطانیہ میں بھارتی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے اور بہت سے برطانوی شہری جن کا آبائی وطن بھارت ہے، وہ وہاں سے آنے والی خبروں اور حالات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔</span>
3/13 برطانیہ میں بھارتی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے اور بہت سے برطانوی شہری جن کا آبائی وطن بھارت ہے، وہ وہاں سے آنے والی خبروں اور حالات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
<span dir="RTL">لندن مظاہرے میں سماجی فاصلے کے اصول کو مجموعی طور پر نظر انداز کیا گیا اور صرف چند مظاہرین ہی ماسک پہنے نظر آئے۔ پولیس نے کرونا وائرس کی احتیاط سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر 13 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔</span>
4/13 لندن مظاہرے میں سماجی فاصلے کے اصول کو مجموعی طور پر نظر انداز کیا گیا اور صرف چند مظاہرین ہی ماسک پہنے نظر آئے۔ پولیس نے کرونا وائرس کی احتیاط سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر 13 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
لندن میں ہونے والے احتجاج میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔
5/13 لندن میں ہونے والے احتجاج میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔
<span dir="RTL">بھارت میں حکومت اور کاشت کاروں کے درمیان ہفتے کو مذاکرات ہوئے جو بے نتیجہ ثابت ہوئے جس کے سبب ڈیڈ </span><span dir="RTL">لاک تاحال</span> <span dir="RTL">برقرار ہے جب کہ مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو ہوگا۔</span>
6/13 بھارت میں حکومت اور کاشت کاروں کے درمیان ہفتے کو مذاکرات ہوئے جو بے نتیجہ ثابت ہوئے جس کے سبب ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے جب کہ مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو ہوگا۔
لندن کے ٹریفلگر اسکوائر پر برطانیہ میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے بھارتی کاشت کاروں سے اظہار یکجتی کے طور پر ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر۔ بھارت شہریوں نے احتجاج کے دوران بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔&nbsp;
7/13 لندن کے ٹریفلگر اسکوائر پر برطانیہ میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے بھارتی کاشت کاروں سے اظہار یکجتی کے طور پر ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر۔ بھارت شہریوں نے احتجاج کے دوران بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ 
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ہول سیل مارکیٹوں کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور کسان اپنی مرضی سے خریداروں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
8/13 بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ہول سیل مارکیٹوں کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور کسان اپنی مرضی سے خریداروں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
حکومت اصلاحات واپس لینے کے لیے تیار نہیں جب کہ احتجاجی کاشت کار اپنے مطالبات سے پیچے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہی ڈیڈ لاک کی اصل وجہ ہے۔
9/13 حکومت اصلاحات واپس لینے کے لیے تیار نہیں جب کہ احتجاجی کاشت کار اپنے مطالبات سے پیچے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہی ڈیڈ لاک کی اصل وجہ ہے۔
<span dir="RTL">کاشت کاروں نے دارالحکومت نئی دہلی کے نواحی علاقوں میں ڈیرے ڈالنے کے ساتھ ساتھ مختلف شاہراہیں بھی بلاک کی ہوئی ہیں۔ </span>
10/13 کاشت کاروں نے دارالحکومت نئی دہلی کے نواحی علاقوں میں ڈیرے ڈالنے کے ساتھ ساتھ مختلف شاہراہیں بھی بلاک کی ہوئی ہیں۔
<span dir="RTL">کاشت کاروں کو خدشہ ہے کہ نئے قوانین سے بھارت کی ریگو لیٹڈ مارکیٹ ختم ہو جائے گی۔ حکومت کسانوں سے گارنٹی پرائس پر چاول اور گندم خریدنا چھوڑ دے گی اور اُنہیں پرائیوٹ خریداروں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔</span>
11/13 کاشت کاروں کو خدشہ ہے کہ نئے قوانین سے بھارت کی ریگو لیٹڈ مارکیٹ ختم ہو جائے گی۔ حکومت کسانوں سے گارنٹی پرائس پر چاول اور گندم خریدنا چھوڑ دے گی اور اُنہیں پرائیوٹ خریداروں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
<span dir="RTL">احتجاجی کاشت کاروں کا مؤقف ہے کہ زراعت سے متعلق نئے قوانین اُن کے روزگار کے لیے خطرہ ہیں۔</span>
12/13 احتجاجی کاشت کاروں کا مؤقف ہے کہ زراعت سے متعلق نئے قوانین اُن کے روزگار کے لیے خطرہ ہیں۔
<span dir="RTL">احتجاجی کاشت کار بھارتی حکومت سے نئے قوانین واپس لینے اور حکومت کی لازمی خریداری برقرار رکھنے سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ حتیٰ کہ دھرنے کے دوران ہی کھانا کھاتے اور سوتے ہیں۔ </span>
13/13 احتجاجی کاشت کار بھارتی حکومت سے نئے قوانین واپس لینے اور حکومت کی لازمی خریداری برقرار رکھنے سمیت دیگر مطالبات کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ حتیٰ کہ دھرنے کے دوران ہی کھانا کھاتے اور سوتے ہیں۔
Previous slide
Next slide

گورکھپور، چندولی، بستی، سون بھدر، اٹاوہ اور دیگر اضلاع میں پولیس اور سماج وادی پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ بستی میں پولیس نے مبینہ طور پر لاٹھی چارج کرکے مظاہرین کو منتشر کیا۔

وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال گھر میں نظربند

دہلی میں عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا کہ پولیس نے مرکزی حکومت کے اشارے پر وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا۔ پولیس نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

دریں اثنا وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا کہ اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اُن کے بقول گزشتہ صدی کے قوانین کے سہارے اگلی صدی میں ترقی نہیں کی جا سکتی۔

وزیرِ زراعت نریندر سنگھ تومر نے ایک بار پھر نئے قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفاد میں مذکورہ قوانین بنائے ہیں۔

انہوں نے کسانوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی کہ منڈیاں ختم نہیں کی جائیں گی اور اجناس کے کم سے کم قیمت بھی سرکاری مقرر کرے گی۔

مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا ہے کہ حکومت پرامن انداز میں اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لے گی۔

'حکومت مذکورہ قوانین واپس لینے کے لیے تیار نہیں'

لیکن کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی سینٹرل کمیٹی کے رکن اور تجزیہ کار جوگیندر شرما نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت مذکورہ قوانین کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بھارت: زرعی بلوں کی منظوری کے خلاف ملک گیر احتجاج

<span dir="RTL">بھارت میں تقریباً 55 برس پرانے &#39;ایگریکلچر پروڈیوز مارکیٹنگ کمیٹی قانون&#39; کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کے استحصال سے بچانا ہے۔</span><br />
&nbsp;
1/10 بھارت میں تقریباً 55 برس پرانے 'ایگریکلچر پروڈیوز مارکیٹنگ کمیٹی قانون' کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کے استحصال سے بچانا ہے۔
 
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ ان بلوں کی منظوری کے بعد کسانوں کو مزید مواقع حاصل ہوں گے۔ کاشت کاروں کو منڈیوں کے ایجنٹوں سے نجات مل جائے گی۔&nbsp;کمیشن ایجنٹوں کے کردار کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کا فائدہ ہو گا۔</p>
2/10

حکومت کا کہنا ہے کہ ان بلوں کی منظوری کے بعد کسانوں کو مزید مواقع حاصل ہوں گے۔ کاشت کاروں کو منڈیوں کے ایجنٹوں سے نجات مل جائے گی۔ کمیشن ایجنٹوں کے کردار کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کا فائدہ ہو گا۔

<span dir="RTL">حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ زرعی بلوں سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ </span>حکومت جس طرح بہت سے سرکاری شعبے نجی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے، اسی طرح وہ اب زرعی شعبے کو بھی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے۔​
3/10 حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ زرعی بلوں سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ حکومت جس طرح بہت سے سرکاری شعبے نجی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے، اسی طرح وہ اب زرعی شعبے کو بھی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے۔​
<span dir="RTL">نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ وہ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور زرعی شعبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔</span>
4/10 نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ وہ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور زرعی شعبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔
<span dir="RTL">زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بلوں کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیوں کہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے، وہاں کسانوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔</span><br />
&nbsp;
5/10 زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بلوں کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیوں کہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے، وہاں کسانوں کا ہی نقصان ہوا ہے۔
 
متنازع بلوں کے خلاف جمعے کو تقریباً 300 کاشت کار تنظیموں اور 20 سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ریل اور سڑک کے ذریعے رابطے متاثر ہوئے۔<br />
<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
6/10 متنازع بلوں کے خلاف جمعے کو تقریباً 300 کاشت کار تنظیموں اور 20 سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ریل اور سڑک کے ذریعے رابطے متاثر ہوئے۔

 
 
کسانوں نے ٹریکٹرز اور واٹر ٹینکرز کی مدد سے مرکزی شاہراہیں اور ہائی ویز بند کیں جس سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔
7/10 کسانوں نے ٹریکٹرز اور واٹر ٹینکرز کی مدد سے مرکزی شاہراہیں اور ہائی ویز بند کیں جس سے ٹریفک کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔
بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں بعض کسان احتجاجی طور پر ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
8/10 بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں بعض کسان احتجاجی طور پر ریلوے ٹریک پر لیٹ گئے جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت رک گئی۔
 
 
کاشت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومت ان بلوں کو واپس نہیں لے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
9/10 کاشت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومت ان بلوں کو واپس نہیں لے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
10/10 احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔
Previous slide
Next slide

ان کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔ اس کا رویہ ایک طرح سے عوام کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور عوام اس کا جواب دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہے تو ابھی اس احتجاج کا مرکز دہلی کے بارڈرز ہیں، آگے چل کر پورا ملک احتجاج کا مرکز بن جائے گا۔

خیال رہے کہ سی پی آئی کسان تحریک کی حمایت کر رہی ہے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

This item is part of
XS
SM
MD
LG