رسائی کے لنکس

logo-print

تیرہ سال کی عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی مالاوت پورنا


تیرہ برس کی مالاوت پورنا نے دنیا کی عظیم چوٹی سر کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پہاڑ سرکرنے کے لیےعمر کی نہیں بلکہ چٹان جیسے حوصلے اور ارادے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مثل مشہور ہے کہ مہم جوئی یا کوہ پیمائی بچوں کا کھیل نہیں ہے، شاید یہ ہی وجہ ہے کہ نیپالی حکومت نے سولہ برس سے کم عمر افراد کے لیے دنیا کی بلند ترین چوٹی'ماؤنٹ ایورسٹ 'سرکرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

لیکن یہ پابندی 13 برس کے ایک امریکی نوجوان جارڈن رومیرو کے قدموں کو نہیں روک سکی جس نے آج سے لگ بھگ پانچ برس قبل جبدنیا کی بلند ترین چوٹی کو سر کرنے کا ارادہ کیا تو نیپال کے بجائے چین کے راستے سے ماؤنٹ ایورسٹ پرچڑھائی کی اور ایسا کارنامہ کردکھایا جسےسولہ برس کی عمر سے پہلے انجام دینے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے جارڈن رو میرو نے 22 مئی 2010 میں 'تیرہ برس دس ماہ اور دس دن ' کی عمر میں دنیا کی عظیم چوٹی کو سر کیا اور تاریخ میں اپنا نام ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے کم عمر ترین نوجوان کی حیثیت سے رقم کر دیا۔

جارڈن رومیرو کی طرح ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر قدم رکھنے کا خواب تو شاید بہت سے نوجوانوں نے دیکھا ہو گا لیکن رواں برس بھارت کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ مالا وت پورنا نے اس خواب کو ایک بار پھر سچ کر دکھایا ہے ۔

مالاوت پورنا نے دنیا کی عظیم چوٹی کو سر کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پہاڑ سر کرنے کے لیے عمر کی نہیں بلکہ چٹان جیسے حوصلے اور ارادے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنا ہر دور کے کوہ پیماؤں کے لیے مشکل ترین چیلنچ رہا ہے۔ اندازاً چھبیس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچنے کے بعد زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کم پڑ جاتی ہے اس مشکل ترین مہم کے دوران اب تک 250 افراد پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کی حسرت میں جان گنوا چکے ہیں۔

اس سال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے خواہش مند کوہ پیماؤں کے درمیان ایک بہادر لڑکی مالاوت پورنا بھی شامل تھی۔

ہندوستان کے تلنگانہ علاقے کی تاڑوائی قبائلی لڑکی پورنا نے 25 مئی 2014 میں ماونٹ ایورسٹ کو سر کیا اس وقت پورنا کی عمر 'تیرہ سال اور گیارہ ماہ' تھی یعنی وہ جارڈن رومیرو سے صرف ایک ماہ بڑی تھی تاہم پورنا نےماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین خاتون کا اعزاز حاصل کر لیا ہے ۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پورنا ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع نظام آبا دکے ایک کسان کی بیٹی ہے وہ سرکاری سوشل ویلفیر ہاسٹل میں نویں جماعت کی طالبہ ہے پورنا اور ان کے کوہ پیما ساتھی آنند کمار نے دس نیپالی گائیڈز کے ہمراہ ماؤنٹ ایورسٹ کی پہاڑی پر تبت کے راستے سے چڑھائی کی جہاں سے اس چوٹی کی بلندی انتیس ہزار انتیس فٹ ہے۔ انھوں نے اپنا مشن 52 روز میں مکمل کیا۔

مالاوت پورنا 150 اسکول کے بچوں میں شامل تھی جنھیں اسکولوں سے ایڈونچر کھیلوں کے مقابلوں کے لیے منتخب کیا گیا تھا جبکہ ان میں سے سولہ سالہ آنند کمار اور مالاوت پورنا دو بچوں کو ٹریننگ کے دوران ان کی برداشت اور سخت لگن کو دیکھتے ہوئے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ۔

' پیپل میگزین' سےایک انٹرویو میں پورنا نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی پر پہنچنے کے بعد میں وہ بے حد جذباتی محسوس کر رہی تھی میرے چاروں جانب خوبصورتی پھیلی تھی بادل، پہاڑ اور سورج کی روشنی دنیا بہت چھوٹی لگ رہی تھی میں دنیا کی بلند ترین چوٹی پر کھڑی تھی اتنی بلندی پر پہنچ کر مجھے خدا اور بھی زیادہ قریب محسوس ہو رہا تھا۔

پورنا نے بتایا کہ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ میری طرح بہت کم لوگوں کو اپنی زندگی بدلنے کا موقع ملتا ہے میں ایک دیہی قبائلی گھرانے کی غریب لڑکی ہوں میں اپنی خاندان کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے شدت سے کسی ایسے ہی موقع کی منتظر تھی میں چاہتی ہوں کہ ہر غریب گھرانے کی لڑکی کے لیے میں ایک ہمت اور حوصلے کی مثال بن جاؤں۔

پورنا نے مہم جوئی کے دوران آنے والی مشکلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایورسٹ کا سفر بہت کٹھن ہے جس کے لیے مہم جوؤں کو سخت ذہنی اور جسمانی مشقت کی ضرورت پڑتی ہے میری ہمت اس وقت جواب دے گئی جب میں نے اپنے سامنے ایسے کوہ پیماؤں کی لاشیں دیکھیں جو اپنا سفر مکمل نہیں کر سکے۔

لیکن ایسے وقت میں مجھے اپنے گھر والوں کا چہرہ یاد آیا اور میں نے ایک بار پھر سے اپنی توانائی اور قوت کو واپس جمع کرتے ہوے اپنا سفر جاری رکھا ۔

ملاوت پورنا کہتی ہے کہ ان کے لیے کوہ پیمائی کے سفر میں سب سے بڑا چیلنچ موسم کی شدت، سردی یا بے آرامی نہیں تھی بلکہ ان کے لیے تیار شدہ ڈبوں کا کھانا کھانا زیادہ مشکل کام تھا جنھیں وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔

مجھے اس کھانے کی خوشبو اور ذائقہ بالکل پسند نہیں تھا اور میں جلد از جلد اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا چاہتی تھی ۔

مالاوت پورنا نے کہا کہ وہ ہر حال میں اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا ارادا رکھتی ہے یہ ایک ایسا سبق ہے جو اس نے اپنے ان پڑھ خاندان کی مصیبتوں اور دکھوں سے سیکھا ہے جبکہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد پورنا پولیس فورس میں شامل ہونا چاہتی ہے بقول پورنا یہ میری طرف یہ ایک ایسے پولیس آفیسر کے لیے شکریہ کا پیغام ہو گا جنھوں نے مجھے میری زندگی تبدیل کرنے کا موقع فراہم کیا ۔

XS
SM
MD
LG