رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی حکومت نے حاجیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی


بھارتی شہر احمد آباد ایئر پورٹ پر حجاج کی واپسی، فائل فوٹو

سہیل انجم

حکومت نے عازمین حج کو دی جانے والی سبسڈی یعنی مالی رعایت ختم کر دی۔ اس کا اعلان اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے نئی دہلی میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوش کرنے میں نہیں بلکہ بااختیار بنانے میں یقین رکھتے ہیں۔

مرکزی وزیر کے مطابق سبسڈی ختم کرنے سے حکومت 750 کروڑ روپے سالانہ بچائے گی جس کا استعمال اقلیتوں کی تعلیم بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو چار کے گروپ میں بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت دینے کے بعد کیا گیا ہے۔

حکومت نے حج سبسڈی ختم کرنے کے لیے 6 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

سپریم کورٹ نے 2010 میں مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ حج سبسڈی 2022 تک بتدریج ختم کر دے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت اس سے بچنے والی تقریباً 650 کروڑ روپے سالانہ کی رقم اقلیتوں کی تعلیمی ترقی اور سماجی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال ایک لاکھ 75 ہزار عازمین حج پر جائیں گے۔ گزشتہ سال ایک لاکھ 25 ہزار عازمین گئے تھے۔ آزاد بھارت میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد بغیر سبسڈی کے حج کرنے جائے گی۔

سبسڈی کا آغاز 1954 میں حکومت کے ایک فیصلے کے تحت کیا گیا تھا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اب تک یہ تاثر جا رہا تھا کہ مسلمان حج کے لیے حکومت سے مالی مدد لیتے ہیں جبکہ اس کا براہ راست فائدہ ایئر انڈیا کو ہوتا تھا جو کہ حاجیوں کو لاتی لے جاتی ہے۔

بعض غیر مسلم تنظیمیں حج سبسڈی کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ کئی مسلم تنظیمیں بھی اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG