رسائی کے لنکس

logo-print

امید ہے نئی پاکستان حکومت دہشت گردی سے پاک جنوبی ایشیا کے لیے کام کرے گی: بھارت


ایک بیان میں، بھارت کی امور خارجہ کی وزارت نے کہا ہے کہ ''ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت تعمیری کام کرے گی، تاکہ جنوبی ایشیا پُرامن، مستحکم، محفوظ اور ترقی پر گامزن ہو، اور دہشت گردی اور تشدد سے آزاد ہو''

بھارت نے ہفتے کے روز اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت جنوبی ایشیا میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ''تعمیری کام'' کرے گی۔

پاکستان میں اس ہفتے ہونے والے عام انتخابات کے بعد بھارت کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔

کرکٹ کے کھلاڑی اور اب سیاسی دان، عمران خان، جنھوں نے متنازع انتخاب جیتا ہے، بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور دیا ہے۔

بھارت کی امور خارجہ کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت تعمیری کام کرے گی، تاکہ جنوبی ایشیا پُرامن، مستحکم، محفوظ اور ترقی پر گامزن ہو، اور دہشت گردی اور تشدد سے آزاد ہو''۔

بھارت پاکستان پر کئی بھارت مخالف شدت پسند گروپوں کی حمایت کرنے، تشدد کی کارروائیوں کے لیے منقسم کشمیر کے خطے میں دراندازی کا الزام لگاتا ہے۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

جمعرات کے روز عمران خان نے انتخابات میں اپنی جیت کا اعلان کیا۔ خان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیئے۔

سنہ 1947 میں آزاد ہونے کے بعد اب تک بھارت اور پاکستان تین لڑائیاں لڑ چکے ہیں، جن میں سے دو کشمیر کے معاملے پر لڑی گئی ہیں، جس سارے علاقے پر دونوں ہی دعوے دار ہیں، لیکن اُس کے حصے اُن کے زیر انتظام ہیں۔ سنہ 2003ء کی جنگ بندی کے بعد کشمیر میں اُن کی افواج کے درمیان جھڑپیں تقریباً رک گئی ہیں، تاہم، حالیہ برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

بھارت کی امور خارجہ کی وزارت نے مذاکرات سے متعلق عمران خان کے بیان پر کوئی براہ راست جواب نہیں دیا۔ لیکن، اس نے اس بات کا خیرمقدم کیا ہے کہ ''عام انتخابات کے ذریعے، پاکستان کے عوام نے جمہوریت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''بھارت ایک خوش حال اور ترقی پذیر پاکستان کا خواہاں ہے، جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے''۔

پاکستان میں انتخابات کے مکمل نتائج کے اعلان کےبعد، ایک ترجمان نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ عمران خان نے مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے کم از کم ایک چھوٹی سیاسی جماعت اور آزاد سیاست دانوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG