رسائی کے لنکس

مسئلہ کشمیرحل کرنے میں کچھ وقت لگے گا: راج ناتھ سنگھ


بھارتی وزیر داخلہ اپنے دفتر کے باہر میڈیا کے نمائندوں کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تمام فریقوں سے اور پاکستان سے بھی مذاکرات کا آغاز کرے۔

سہیل انجم

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر سے دہشت گردی ختم کرنے کے عہد کا اظہار کرتے ہوئے ا س بات پر زور دیا کہ ’’مرکز کی این ڈی اے حکومت سات دہائی پرانے مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی سمت میں کام کر رہی ہے، تاہم اس میں کچھ وقت لگے گا‘‘۔

حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر اپنی وزارت کی کامیابیوں سے متعلق ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ’’مرکز آئین کے دائرے میں رہ کر سب سے بات کرے گا اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے عوام اور سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لے گا‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’وادی میں سلامتی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور کنٹرول لائن کے پار بھارت کی سرجیکل اسٹرائیک کے بعد سرحد پار سے دراندازی میں 45 فیصد کی کمی آئی ہے‘‘۔

بھارتی فوج نے ستمبر میں دعوی کیا تھا کہ اس نے کنٹرول لائن کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے جس میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے اس دعوے کو بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

ایک سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت مذاکرات کی بات تو کرتی ہے لیکن اس تعلق سے کوئی قدم نہیں اٹھاتی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے تمام فریقوں سے اور پاکستان سے بھی مذاکرات کا آغاز کرے۔ اٹل بہاری واجپائی اور پرویز مشرف نے اس سلسلے میں کوششیں کی تھیں لیکن وہ بارآور نہیں ہوئیں‘‘۔

راج ناتھ سنگھ نے بھارت کو درپیش داعش کے خطرے کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے کامیابی کے ساتھ اس خطرے کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بھارت میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہونے کے باوجود اسلامک اسٹیٹ یہاں اپنی جگہ بنانے میں ناکام ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ کے 90 سے زائد ہمدردوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG