رسائی کے لنکس

ہریانہ میں دو کشمیری طلبہ پر پندرہ افراد کا تشدد، تین گرفتار


ہندو انتہاپسند گروپ کے کارکن بنگلور میں بالی وڈ کی فلم پدماوتی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نومبر 2017
ہندو انتہاپسند گروپ کے کارکن بنگلور میں بالی وڈ کی فلم پدماوتی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نومبر 2017

سہیل انجم

دارالحکومت دہلی سے تقریباً 100 کلومیر دور ہریانہ کے مہیندر گڑھ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دو طلبہ پر پندرہ افراد کے ایک گروہ نے حملہ کیا اور انھیں زدوکوب کیا۔ یہ واقعہ نماز جمعہ کے بعد اس وقت پیش آیا جب وہ مقامی بازار گئے ہوئے تھے۔

طالب علموں کے نام آفتاب احمد اور ریحان بتائے گئے ہیں۔ ان کا تعلق راجوری جموں سے ہے۔ وہ ہریانہ سینٹرل یونیورسٹی میں جغرافیہ کے طالب علم ہیں۔ انھیں مبینہ طور پر ڈنڈوں، اینٹوں اور ہیلمٹ سے پیٹا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ مارکیٹ میں پہنچے تو کچھ لوگوں نے انھیں گھیر لیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ بقول ان کے مسانی چوک پر جب ہم نے اپنی بائیک روکی تو انھوں نے پیچھے سے آکر مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ بعد میں انھوں نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور اسپتال جا کر اپنا علاج کرایا۔

مہیندر گڑھ پولیس نے اس حملے کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ضلع کمشنر گریما متل نے صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس کی مناسب جانچ کی جائے گی۔ متاثرین کو طبی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایریا ایس پی کمل دیپ کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی بنیاد پر مزید تین افراد کی شناخت کی ہے۔

انسانی حقوق کے ایک کارکن اور سینئر تجزیہ کار گوتم نو لکھا نے وائس آف امریکہ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں ایسے واقعات کے لیے ذمہ دار ہیں۔

ان کے مطابق نیوز چینلوں کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس میں کشمیری مسلمانوں کو دشمن اور دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جس سے شہ پاکر ہندوتووادی عناصر ایسے حملے کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایسی پالیسی وضع کر رکھی ہے کہ کشمیر میں سویلین کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اسی کی ایک کڑی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر ایسے حملے کروائے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

اس سے قبل وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے اس واقعہ پر اظہار تشویش کیا۔ محبوبہ مفتی نے ہریانہ کے اپنے ہم منصب منوہر لال کھٹر سے اپیل کی کہ وہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

کشمیر اسمبلی میں بھی اس پر ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن ارکان نے حکومت پر ایسے واقعات روک پانے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا۔

اس سے قبل بھی متعدد یونیورسٹیوں میں اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ حالانکہ مرکزی وزارت داخلہ نے ایک ایڈوائزری جاری کرکے ریاستی حکومتوں سے کہا کہ وہ ایسے واقعات نہ ہونے دیں۔

XS
SM
MD
LG