رسائی کے لنکس

logo-print

ہریانہ میں زیرِ تعمیر مسجد کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں: اقلیتی کمیشن


پلوال ہریانہ میں زیر تعمیر مسجد کا ایک منظر

چند روز قبل نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں مسجد کی تعمیر کی فنڈنگ کے سلسلے میں این آئی اے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ زیر تعمیر مسجد کے لیے حافظ سعید فنڈ دے رہے ہیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ہریانہ کے پلول میں زیر تعمیر” مسجد خلفائے راشدین“ کا پاکستان میں سرگرم لشکر طیبہ یا فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سے کوئی تعلق ہے۔ اس نے لشکر طیبہ کے فنڈ سے اس کی تعمیر کے الزام کو بھی غلط اور بے بنیاد قرار دیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک رپورٹ میں مسجد کی تعمیر کی فنڈنگ کے سلسلے میں این آئی اے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ زیر تعمیر مسجد کے لیے حافظ سعیدفنڈ دے رہے ہیں۔ بعض دیگر اخبارات نے بھی ایسی خبر شائع کی تھی۔

اس سلسلے میں دہلی کے ایک شخص محمد سلمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دہلی اقلیتی کمشن کے ارکان
دہلی اقلیتی کمشن کے ارکان

اقلیتی کمشن نے مذکورہ الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جس نے علاقے کا دورہ کیا اور پولیس اور انتظامیہ کے افسران، مقامی پنچایت کے ذمہ داران، علاقے کے لوگوں اور متاثرہ خاندانوں کے افراد سے گفتگو کی۔ کمیٹی نے اس کیس میں ملزم محمد سلمان کے خاندان سے بھی دہلی میں ملاقات کی۔

کمیٹی کے سربراہ حقوق انسانی کے معروف کارکن اویس سلطان خاں نے جو کہ دہلی اقلیتی کمشن کی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں، کمشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں اور دیگر ممبران کی موجودگی میں ایک نیوز کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی مسجد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا تعلق دہشت گردوں سے ہے یا اس میں دہشت گردوں کا پیسہ لگا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مسجد کو 84 گاؤں کے لوگوں نے مل کر تعمیر کیا ہے۔ کل اراضی دس ایکڑ تھی جس میں سے گاؤں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے خوشی خوشی آٹھ ایکٹر زمین مسجد کے لیے دی اور دو ایکٹر زمین کو ایک سرکاری اسپتال اور اولڈ ایج ہوم کے لیے دی۔ اس مسجد میں 16 ہزار افراد بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔

اویس نے مزید بتایا کہ زمین کے کچھ حصے پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے سامنے والے حصے میں دو سو دکانیں بن سکتی تھیں جن میں ہر ایک دکان کی قیمت 52 لاکھ روپے ہو گی۔

ہریانہ کے علاقے پلول میں زیر تعیمر مسجد کا ایک منظر
ہریانہ کے علاقے پلول میں زیر تعیمر مسجد کا ایک منظر

گاؤں والوں اور این آئی اے کے اہل کاروں کے مطابق کسی نے متعلقہ وزارت سے اس مسجد کے بارے میں شکایت کی اور وزارت نے وہ شکایت این آئی اے کو بھیج دی۔ این آئی اے نے اب تک اپنے سرکاری بیانات یا اپنی ویب سائٹ پر اس کا الزام نہیں لگایا ہے کہ مذکورہ مسجد میں دہشت گردوں کا پیسہ لگا ہے۔ جبکہ کچھ اخبارات نے این آئی اے کے حوالے سے الزام عائد کیا ہے۔

کمیٹی کی چھان بین میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مسجد کی تعمیر میں کسی طرح سے دہشت گردوں یا باہر کا پیسہ لگا ہے۔ مقامی پولیس اور پنچایت کے لوگوں نے بھی ایسا کوئی الزام نہیں لگایا۔

اویس سلطان خاں نے مزید بتایا کہ لشکر طیبہ یا فلاح انسانیت ایک سلفی تنظیم ہے جبکہ یہ مسجد تبلیغی جماعت والوں سے متعلق ہے اور ان دونوں کی فکر بالکل مختلف ہے۔

رپورٹ میں گاؤ ں والوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمد سلمان نے اپنی گاؤں کی زمین بیچ کر مسجد کو پیسے دیے تھے۔ گاؤں والوں کا الزام ہے کہ جو ریکارڈ اس وقت این آئی اے کے پاس ہے وہ پروسیجر کی خلاف ورزی کی وجہ سے مشکوک ہے۔ محمد سلمان کا بھائی ان پڑھ ہے پھر بھی اس سے درخواست کیوں لکھوائی گئی۔

این آئی اے کی ویب سائٹ پر اس کیس کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محمد سلمان کو کسی بہانے سے بینک بلایا گیا اور وہاں اس کو گرفتار کیا گیا۔

محمد سلمان پر الزام ہے کہ وہ 70 لاکھ روپے پاکستان سے لایا ہے، جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ موجودہ سر پنچ اور سابق سر پنچ نے کمیٹی کو بتایا کہ علاقے کے سارے سر پنچوں نے مل کر یہ زمین مسجد کے لیے دی ہے۔ خود محمد سلمان نے اپنی زمین بیچ کر22 سے24 لاکھ روپے اس کام کے لیے دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG