رسائی کے لنکس

logo-print

'دلیّ جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب' لوگ اسے چھوڑنے پر مجبور    


پچھلے سال نئی دہلی کی طالبات ماحول کی الودگی کے خلاف مضاہرہ کر رہی ہیں

اس وقت دنیا کے اَلودہ ترین شہروں میں دہلی کا بھی شمار ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ سارے بھارت سے لوگ دہلی میں بسنے کی اَرزو رکھتے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ لوگ یہاں راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں آلودگی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، اس نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دہلی میں رہنے والوں کے پھیپڑوں میں جانے والی ہوا کا نقصان اتنا ہی ہے جتنا کہ بیس سگریٹ پینے کا نقصان ہو تا ہے۔ لاکھوں لوگ سانس، پھیپھڑوں اور دل کے عارضوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ خاص طور سے بچّے اس زہریلی ہوا کا شکار ہوئے ہیں۔

نئی دہلی میں وائس آف امریکہ کی نامہ نگار انجنا پسریچہ نے دہلی کے مقامی شہریوں سے جب بات کی تو انہوں نے کہا کہ صحت کی خاطر وہ کم اجرت پر بھی دہلی چھوڑنے لیے تیار ہیں۔ چنانچہ جس کو موقعہ ملتا ہے وہ دہلی چھوڑ رہا ہے۔

نئی دہلی کے سائینس اور ماحولیاتی مرکز کی ماہر انو میتا رائے چودھری کہتی ہیں کہ محض دہلی چھوڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیوں کہ بھارت کے دوسرے شہر بھی کم آلودہ نہیں ہیں۔ ہوا کی آلودگی نیشنل ایمرجینسی کی متقاضی ہے اور اسے ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں سے چودہ بھارت میں ہیں۔

بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ ہیں اور اس کے تدارک کے لیے کام کر رہے ہیں، مگر ابھی تک خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب اتنی کثیر آبادی اپنا روزگار اور گھر بار چھوڑ کر جائے تو کہاں جائے، کیوں کہ بھارت کے اٹھاسی فی صد شہر آلودہ ہیں۔ جو لوگ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا، مگر اس کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG