رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت مذاکرات کا نیا دور: بے لچک بات چیت


پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں جموں و کشمیر ، دہشت گردی اورخطے کے معاشی امور سمیت دیگر حل طلب مسائل زیر بحث آئے۔اگرچہ مذاکرات کے اختتام پر ہونے والی پریس کانفرنس میں دونوں فریق اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے دکھائی دیے مگر ماہرین 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں اور امن بات چیت کی معطلی کے بعد کسی اعلی ٰ سطحی بھارتی راہنما کے پاکستان کے اس پہلے دورے کو بات چیت کا عمل جاری رکھنے کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں ۔ ان مذاکرات کو واشنگٹن میں موجود پاکستانی تجزیہ کار گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔

میٹنگز کے بعد پریس کانفرنس میں طویل تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چونکہ ملاقات بہت طویل عرصے کے بعد ہوئی اس لیے گفت و شنید کے لیے بہت کچھ تھا ۔ مگر دونوں وزرا کسی خاص پیش رفت کی خوش خبری نہ سنا سکے۔ معید یوسف کا تعلق یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان مذاکرات سے کوئی بڑی توقع رکھنا غلط تھا۔

معید یوسف کا کہناتھا کہ آہستہ آہستہ مذاکرات کےدوسرے تیسرے اور چوتھے دور کے بعد شاید کچھ کامیابی نظر آئے،لیکن یہ ایک بہت کمزور عمل ہے۔ اگر بھارت میں دہشت گردی کا ایک اورواقعہ پیش آ گیا تو پھر یہ سب کچھ صفر پر آجائے گا۔ میرے نزدیک جلد پیش رفت یا جلد کامیابی کی بہت جلد امیدرکھنادرست نہیں ہے۔

معید یوسف کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ بات غیر حقیقی ہے کہ پاکستان یا تو ان تمام تنظیموں کے خلاف ایک ملٹری آپریشن شروع کر دے یا اپنے لیگل فریم ورک کو چھوڑ کر بھارت اور باقی دنیا کو دکھانے کے لیے حافظ سعید یا کسی اور شخص کے خلاف کوئی کارروائی کرے، جس کا بعد میں قانونی اعتبار سے دفاع کرنا بہت مشکل ہو ۔ پاکستان کی عدلیہ اس وقت ایک بہت سرگرم مرحلے میں ہے۔

اگرچہ مذاکرات کے اس دور سے کوئی بڑا نتیجہ تو نہیں نکل سکا مگر یہ سلسلہ بحال ہونے سے خطے کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

معید یوسف کہتے ہیں کہ دونوں ملک یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ جنگ کسی کے حق میں نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کا یہ ایک نیا منظر نامہ ہے جو کہ ایک اچھی چیز ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جیسے جیسے بات چیت آگے بڑھے گی تو ممکن ہے کہ تنازعات کو حل کیے بغیر دونوں ممالک کسی ایسے نقطے پر پہنچ جائیں جہاں وہ اپنے اختلافات کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔

بھارتی وزیرِخارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو بھارت آنے کی دعوت دی ،جو انہوں نے قبول کر لی ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تمام مسائل کا حل شاید جلد نہ مل سکے اور دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید بھی جاری رہے، لیکن دونوں کی بہتری مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے میں ہے۔

XS
SM
MD
LG