رسائی کے لنکس

logo-print

نئی دہلی میں ہزاروں بھارتی کسانوں کا احتجاج


کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے مسائل پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے، ان کے قرضے معاف کیے جائیں اور ان کی فصلوں کی قیمت بڑھائی جائے

ملک بھر سے ہزاروں کاشتکار مارچ کرتے ہوئے دہلی کے رام لیلا میدان پہنچے ہیں۔ وہ یہاں دو روزہ ریلی کر رہے ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے مسائل پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے، ان کے قرضے معاف کیے جائیں اور ان کی فصلوں کی قیمت بڑھائی جائے۔

یہ لوگ جمعے کے روز رام لیلا میدان سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کریں گے۔

’کسان مکتی مارچ‘ نامی یہ ریلی 200 کسان تنظیموں کے وفاق، ’آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی‘ کے زیر اہتمام ہو رہی ہے۔

کسانوں کا الزام ہے کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔

کسانوں کے مختلف گروپ کئی دنوں سے دہلی کے بجواسن علاقے میں جمع ہو رہے تھے۔ جمعرات کے روز انھوں نے وہاں سے رام لیلا میدان تک 25 کلومیٹر پیدل مارچ کیا۔

مارچ کی قیادت کرنے والے سوراج ابھیان کے رہنما یوگیندر یادو نے کہا کہ حکومت نے کسانوں سے جو وعدے کیے تھے انھیں پورا نہیں کیا گیا۔

ریلی میں شرکت کرنے والی ایک تنظیم، ’آل انڈیا کسان سبھا‘ کے قومی سکریٹری اور سی پی آئی کے سینئر رہنما اتل کمار انجان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کسانوں کے تمام قرضے معاف کرے۔ زراعت سے متعلق سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ پر عمل کیا جائے۔ پورے ملک کی زراعت کا انشورنس کیا جائے۔ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے کسانوں کو سبسڈی دی جائے اور ساٹھ سال کی عمر سے اوپر کے تمام کسانوں کو دس ہزار روپے ماہانہ پینشن دی جائے‘‘۔

تمل ناڈو سے 350 کسانوں کا ایک دستہ آیا ہوا ہے جو اپنے ساتھ خود کشی کرنے والے دو کسانوں کے ’کاسہ سر‘، یعنی کھوپڑیاں، بھی لایا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مارچ کرنے کی اجازت نہیں ملی تو وہ عریاں مارچ کریں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسانوں کی شکایات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر ادت راج کے مطابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ سنہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔ ہم لوگ اس سمت میں کام کر رہے ہیں۔

دہلی میں کسانوں کا یہ اب تک کا دوسرا بڑا مظاہرہ ہے۔ اس سے قبل دو اکتوبر کو دہلی اور اتر پردیش کی سرحد پر کسانوں اور پولیس میں ٹکراؤ کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد زخمی ہوئے تھے۔

بھارت میں کسان دہائیوں سے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 1998 سے 2018 تک ملک میں تین لاکھ کسان خود کشی کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG