رسائی کے لنکس

logo-print

ہیلی کاپٹر اسکینڈل میں کچھ نہیں چھپارہے، بھارتی وزیرِ اعظم


گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے اس اسکینڈل کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نے پیر کو پہلی بار اس موضوع پر لب کشائی کی۔

بھارت کے وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ہیلی کاپٹروں کی خریداری سے متعلق حال ہی میں سامنے آنے والے بدعنوانی کے اسکینڈل کے بارے میں کسی بھی قسم کے حقائق نہیں چھپارہی ہے۔

گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے اس اسکینڈل کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نے پیر کو پہلی بار اس موضوع پر لب کشائی کی۔

دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت اس معاملے پر پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں بحث کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جو بدھ کو شروع ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام معاملات پر گفتگو کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے جہاں ان کی حکومت ہر معاملے پر بات کرنے کو تیار ہے۔

لگ بھگ 750 ملین ڈالر مالیت کے اس سودے کے تحت بھارتی فضائیہ نے اٹلی کی دفاعی سازو سامان تیار کرنے والے سرکاری کمپنی 'فن مکا نیکا' کو 12 'آگسٹا ویسٹ لینڈ' ہیلی کاپٹروں کا آرڈر دیا تھا۔

یہ ہیلی کاپٹر اہم حکومتی عہدوں پر تعینات بھارتی سیاست دانوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہونا تھے۔ ان ہیلی کاپٹروں میں سے تین گزشتہ برس بھارت کو مل چکے ہیں جب کہ باقی نو جلد ملنے والے ہیں۔

تاہم سودے میں بد عنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد بھارت کی وزارتِ دفاع نے 'فن مکانیکا' کو سات روز کے اندر اپنی صفائی پیش نہ کرنے کی صورت میں سودے کی منسوخی کی دھمکی دی ہے۔

سودے کی منسوخی کی صورت میں بھارتی حکومت 'فن مکانیکا' کو آئندہ کئی برسوں کے لیے بھارت کے ساتھ دفاعی سودوں کے لیے نااہل بھی قرار دے سکتی ہے۔

'فن مکانیکا' کے حکام نے کہا ہے کہ وہ بھارتی وزارتِ دفاع کی جانب سے بھیجے جانے والے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا سات روز کے اندر جواب دیں گے جو جمعے کو مکمل ہورہے ہیں۔

سودے میں بدعنوانی کا انکشاف اٹلی میں ہونے والی ایک تفتیش میں ہوا ہے جس کے مطابق اس سودے کے لیے اطالوی کمپنی نے بھارتی فضائیہ کے اس وقت کے سربراہ ایس پی تیاگی سمیت دیگر بھارتی حکام کو رشوت دی تھی۔

سنہ 2004 سے 2007ء تک فضائیہ کے سربراہ رہنے والے ایئر چیف مارشل (ر) تیاگی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

تفتیشی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اطالوی حکام نے 'فن مکانیکا' کے سربراہ گوسیپے ارسی کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔
XS
SM
MD
LG