رسائی کے لنکس

بھارت کا سکھ یاتریوں تک قونصلر رسائی نہ دینے کا الزام، پاکستان کی تردید


فائل فوٹو

بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے ہاں تعینات سفارتی عملے کو ان بھارتی شہریوں سے ملنے سے روک دیا ہے جو ان دنوں مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان گئے ہوئے ہیں۔

تاہم پاکستان نے بھارت کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

بھارت سے لگ بھگ دو ہزار سکھ یاتری 12 اپریل سے پاکستان کے دورے پر ہیں اور نئی دہلی کے مطابق پاکستان نے واہگہ بارڈر پر بھارتی قونصلر ٹیم کو ان یاتریوں سے ملنے سے روک دیا تھا۔

مزید برآں بھارت کے دعوے کے مطابق ہفتے کو ان سکھ یاتریوں سے بھارتی سفارتی حکام سے ملاقات طے ہونے کے باوجود انھیں ملنے کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ اسی روز بھارتی ہائی کمشنر جنہوں نے حسن ابدال کے نزدیک پنجہ صاحب گردوارہ کا دورہ کرنا تھا، انھیں بھی راستے سے ہی واپس چلے جانے کا کہا تھا۔

نئی دہلی کے بقول اسلام آباد نے ہائی کمشنر کو "سلامتی" کی وجوہات کی بنا پر پنجہ صاحب جانے سے منع کیا گیا لیکن اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

اتوار کو بھارتی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک معمول کی کارروائی رہی ہے کہ زیارت کے لیے جانے والے شہریوں کی معاونت کے لیے ہائی کمیشن کے اہلکار ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارت کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے متروکہ وقف املاک بورڈ نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کو 14 اپریل کو گوردوارہ پنجہ صاحب میں ہونے والی بیساکھی کی مرکزی تقریب میں مدعو کیا تھا۔

ترجمان نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ بیساکھی کی تقریب میں دنیا بھر سے سکھ یاتری شریک ہیں جن میں سے بعض حال ہی میں بھارت میں اپنے مذہبی پیشوا بابا گرونانک سے متعلق ریلیز ہونے والی ایک متنازع فلم پر برہم ہیں۔

ترجمان کے مطابق صورتِ حال کی نزاکت اور کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے متروکہ وقف املاک بورڈ نے بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے انہیں ہائی کمشنر کا دورہ منسوخ کرنے کا کہا تھا جس پر ہائی کمیشن نے آمادگی ظاہر کردی تھی۔

پاکستانی ترجمان نے کہا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی انتظامیہ نے یہ فیصلہ پوری نیک نیتی سے کیا تھا اور اس دورے کی منسوخی میں دونوں فریقوں کی رضامندی شامل تھی۔

ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ہائی کمیشن کی ایک ٹیم نے اتوار کو گوردوارہ پنجہ صاحب کا دورہ کیا ہے جب کہ ہفتے کو ہائی کمیشن کے کسی اہلکار کا گوردوارے کا دورہ طے نہیں تھا۔ لہذا یاتریوں تک قونصل رسائی نہ دینے کا بھارتی دعویٰ بھی حقائق کے منافی ہے۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار چلے آ رہے ہیں اور گزشتہ ماہ ہی پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے اجمیر میں صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر جانے کے خواہشمند 500 پاکستانیوں کو ویزہ جاری نہیں کیا جو کہ اسلام آباد کے بقول مذہبی سیاحت کے باہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG