رسائی کے لنکس

بھارت میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے متعدد واقعات


بھارتی شہر احمد آباد میں کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کے خلاف مظاہرہ ۔ 16 اپریل 2018
بھارتی شہر احمد آباد میں کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کے خلاف مظاہرہ ۔ 16 اپریل 2018

کٹھوعہ کی آٹھ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل اور اناؤ کی ایک دلت لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے پر ملک بھر میں احتجاجي مظاہروں کا سلسلہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع میں بھی ایک شادی کی تقربیات کے دوران ایک آٹھ سالہ بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ واردات شادی کی تقریب کے لیے ٹینٹ نصب کرنے والے ایک لڑ کے نے کی۔

ایٹہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اکھلیش چورسیا کے مطابق لڑکی کی لاش قریب کے ایک زیر تعمیر خالی مکان میں ملی۔ اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ بچی کی گردن پر گلا گھونٹنے کے نشانات ہیں۔

واردات کے بعد ملزم سونو جاٹو فرار ہو گیا تھا مگر پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ متاثرہ کے اہل خانہ کی شکایت پر اس کے خلاف قتل، جنسی زیادتی اور دیگر دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہمسایہ اضلاع علی گڑھ، فیروزآباد اور اٹاوہ میں بھی الگ الگ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔

اٹاوہ میں پیش آنے والے ایک اور واقعہ میں 13 اور 17 سال کی دو بہنوں کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق انہیں گولی ماری گئی ہے۔ دونوں شام کے وقت رفع حاجت کے لیے گئی تھیں۔ جب وہ واپس نہیں لوٹیں تو ان کے والدین نے سمجھا کہ گاؤں ہی میں ہونے والی ایک شادی میں چلی گئی ہوں گی۔ مگر اگلی صبح کو ایک کھیت میں ان کی لاشیں ملیں۔

ادھر سورت میں ایک گیارہ سالہ لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق 6 اپریل کو پیش آنے والے اس واقعہ میں بچی کے جسم پر زخموں کے 86 نشانات ملے ۔ اسے قتل کرنے سے پہلے ایک ہفتے تک یرغمال بنائے رکھا گیا تھا۔

ملک کے دیگر علاقوں سے بھی کم عمر لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

حزب اختلاف کا الزام ہے کہ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں عورتوں اور بچیوں کے خلاف جرائم میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

بی جے پی اور اس کی ریاستی حکومتوں کا کہنا ہے کہ ایک بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان وارداتوں سے بی جے پی حکومتوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بی جے پی راہنماؤں پر ملزموں کو بچانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

کٹھوعہ واقعہ پر ایک ہفتے کے ہنگامے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیٹیوں کو انصاف ملے گا اور مجرموں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ یو پی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی قصورواروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG