رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: جنسی زیادتی کے مقدمے کا فیصلہ ایک بار پھر موخر


حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جمعرات کو سنایا جانا تھا لیکن بچوں (نابالغ) کی قانونی تعریف کا تعین کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی وجہ سے یہ فیصلہ پانچ اگست تک ملتوی کردیا گیا۔

بھارت میں بچوں کی ایک عدالت نے ایک بار پھر گزشتہ دسمبر میں نئی دہلی میں وحشیانہ جنسی زیادتی کے مقدمے سے متعلق فیصلہ موخر کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جمعرات کو سنایا جانا تھا لیکن بچوں (نابالغ) کی قانونی تعریف کا تعین کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی وجہ سے یہ فیصلہ پانچ اگست تک ملتوی کر دیا گیا۔

دسمبر میں نئی دہلی میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث ملزمان میں سے ایک کی عمر اُس وقت 17 سال تھی اور اسے زنابالجبر اور قتل کے الزام میں ایک حراستی مرکز میں تین سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔

اس لڑکے کے علاوہ دیگر پانچ ملزمان پر نئی دہلی کی ایک خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ۔ ان ملزمان میں سے ایک نے مارچ میں مبینہ طور پر جیل میں خودکشی کر لی تھی۔

بقیہ چار کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے نئی دہلی میں ایک لڑکی اور اس کے دوست کو آہنی ڈنڈے سے زدو کوب کیا اور اس لڑکی کو جنسی زیادتی کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ لڑکی دو ہفتوں کو تشویشناک حالت میں زیر علاج رہنے کے بعد ہلاک ہو گئی تھی۔

گزشتہ دسمبر میں پیش آنے والے اس واقعے کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے جن میں زنابالجبر کے خلاف سخت قوانین بنانے، پولیس کے نظام میں اصلاحات اور بھارت میں خواتین سے روا رکھے جانے والے سلوک میں تبدیلی کے مطالبات دہرائے جاتے رہے۔
XS
SM
MD
LG