رسائی کے لنکس

بھارت: دس سالہ لڑکی کے اسقاط حمل کی درخواست مسترد


فائل فوٹو

یہ دوسری بار ہے کہ اس سال بھارتی عدالتوں نے کم عمر لڑکیوں کے اپنے رشتے داروں کے ہاتھوں حاملہ ہونے کے بعد والدین کی جانب سے اسقاط حمل سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے ڈاکٹروں کی رائے کے بعد ایک جنسی حملے کا نشانہ بننے والی دس سالہ لڑکی کی اسقاط حمل کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ڈاکٹروں کی رائے میں کہا گیا تھا کہ حمل گرانا لڑکی کی جان کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

لڑکی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور شمالی شہر چندی گڑھ میں ایک کمرے کے مکان میں رہتی تھی۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے چچا نے اس سے کئی بار جنسی زیادتی کی۔ اس کا چچا اب پولیس کی حراست میں ہے۔

لڑکی کے والدین کو اس کے حاملہ ہونے کا علم اس وقت ہوا جب وہ پیٹ کے درد کی تکلیف پر اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔

لڑکی اس وقت 32 ہفتوں کے حمل سے ہے۔

سپریم کورٹ کے ججوں نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے فیصلے کا انحصار ڈاکٹروں کے طبی معائنے کے بعد کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس وقت اسقاط حمل، لڑکی اور اس کے بچے کی زندگی کے لیے غیر محفوظ ہے۔

سپریم کورٹ نے لڑکی کو مناسب طبی دیکھ بھال اور علاج معالجہ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

لڑکی کے والدین نے اسقاط حمل سے متعلق چندی گڑھ کی ہائی کورٹ میں اپنی درخواست مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے بھی خطرناک طبی نتائج کی بنیاد پر دو ہفتے قبل درخواست مسترد کر دی تھی۔

بھارتی قانون 20 ہفتوں کے حمل کے بعد اسے گرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن غیر معمولی حالات میں عدالت اسقاط حمل کی درخواست پر غور کر سکتی ہے۔

یہ مقدمہ بھارت میں بڑے پیمانے پر جنسی زیادتیوں کی صورت حال کو اجاگر کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں عورتوں کے خلاف جنسی جرائم کے خلاف بڑے پیمانے پر آواز اٹھائی جا رہی ہے جن کا نشانہ عموماً سب سے کمزور طبقہ کم عمر لڑکیاں بنتی ہیں۔

یہ دوسری بار ہے کہ اس سال بھارتی عدالتوں نے کم عمر لڑکیوں کے اپنے رشتے داروں کے ہاتھوں حاملہ ہونے کے بعد والدین کی جانب سے اسقاط حمل سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

اس سے پہلے مئی میں ایک عدالت کی جانب سے ایک دس سالہ لڑکی کو اسقاط حمل کی اجازت دی گئی تھی جس کے حمل کو 21 ہفتے ہو چکے تھے۔ اس لڑکی کو سوتیلے باپ نے متعدد بار اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG