رسائی کے لنکس

logo-print

قدیم مندر میں دو عورتوں کے داخلے کے خلاف کیرالا میں احتجاجی مظاہرے


سبراملا مندر میں عورتوں کے داخلے کے خلاف احتجاج، 2 جنوری 2019

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں بدھ کے روز اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے جب دو عورتیں، ایک ہندو عبادت گاہ میں خواتین کے داخلے پر صدیوں پرانی پابندی کی خلاف ورزی کرتے، مندر میں داخل ہو گئیں۔

پولیس نے کیرالا کے صدر مقام تری وندرم میں برہم مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے اور پانی کی بوچھاڑ کا استعمال کیا۔

پولیس کے مطابق دونوں خواتین، جن کی عمریں 40 سال سے زیادہ بتائی جا رہی ہیں، سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک چوٹی پر بنے سبراملا مندر میں داخل ہوئیں۔

مندر میں عورتوں کے داخلے کے خلاف ریاست کیرالا کے کئی دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

سبراملا مندر میں 10 سے 50 سال تک کی عمروں کی خواتین کے داخلے پر پابندی ہے۔ عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ اس عمر کی عورتوں کے خاص ایام کی وجہ سے مندر پلید ہو سکتا ہے۔

ہندو عقیدے کے مطابق بچہ پیدا کرنے کی عمر کے دوران عورتیں ناپاک ہوتی ہیں اور انہیں مذہبی رسومات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

تصویر میں دو عورتوں کو سبراملا مندر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جنوری 2019
تصویر میں دو عورتوں کو سبراملا مندر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جنوری 2019

ماضی میں بھی کئی عورتوں نے مندروں میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن ہندو عقیدت مندوں نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

پچھلے سال ستمبر میں بھی ریاست کیرالا میں اس وقت پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جب بھارت کی سپریم کورٹ نے مندر میں عورتوں کے داخلے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

کیرالا کے وزیر اعلیٰ پناری وجے یان نے بدھ کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس سبراملا مندر میں داخل ہونے کی خواہش رکھنے والے ہر فرد کو تحفظ فراہم کرے گی۔

بھارتی سپریم کورٹ مندر میں داخلے سے متعلق اپنے فیصلے کے خلاف ایک اپیل کی سماعت اس مہینے کے آخر میں کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG