رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں یوم جمہوریہ پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات


بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات کی تیاریاں ۔ جنوری 2018

سہیل انجم

یوم جمہوریہ جوں جوں قریب آرہا ہے، دارالحکومت دہلی سمیت پورے ملک میں حفاظتی انتظامات سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار یعنی 69 ویں یوم جمہوریہ پر دس عالمی راہنما مہمانان خصوصی ہوں گے۔ خفیہ ایجنسیوں نے ایک اعلیٰ سطحی انتباہ جاری کرکے کہا ہے کہ ان راہنماؤں پر دہشت گردانہ حملے ہو سکتے ہیں۔

جمعہ کو ہونے والی تقربیات میں دس آسیان ملکوں یعنی انڈونیشیا اور فلپائن کے صدور، ویتنام، لاؤس، ملیشیا، سنگاپور، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے وزرائے اعظم اور میانمار کی اسٹیٹ قونصلر اور برونائی کے سلطان مہمانان خصوصي ہوں گے۔

ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ اتنے زیادہ عالمی راہنما یوم جمہوریہ تقربیات میں شریک ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار دہلی اور مضافات میں پہلے کے مقابلے کہیں سخت حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایئر پورٹوں، بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور مصروف ترین بازاروں میں بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی پولیس، نیم مسلح دستوں، آئی ٹی بی پی کی کمانڈو ٹیموں اور این ایس جی سمیت تقریباً 14 ہزار سیکیورٹی اہل کار دہلی اور آس پاس تعینات کیے جا رہے ہیں۔

خفیہ رپورٹوں کے مطابق بھارت اور پاکستان کے مابین کنٹرول لائن پر سرگرمیوں میں اضافہ اور ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں جامع مسجد، پرانی دہلی، مجنوں کا ٹیلہ، بٹلہ ہاؤس، کرشنا نگر، ارجن نگر اور بعض غیر قانونی کالونیوں میں گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہے اور متعدد راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں مشتبہ افراد سے ضروری پوچھ گچھ کی جائے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG