رسائی کے لنکس

logo-print

سبری مالا مندر میں داخل ہونے والی دو خواتین کے لیے مسلسل سیکورٹی کی ہدایت


سبری مالا مندر میں داخل ہونے والی خواتین کنک درگا اور بندو ایمینی۔ 10 جنوری 2019

سپریم کورٹ نے کیرالہ حکومت سے کہا ہے کہ وہ چند روز پہلے قدیم سبری مالا مندر میں داخل ہونے والی دو عورتوں کو 24 گھنٹے تحفظ فراہم کرے۔

یہ دونوں سپریم کورٹ کی جانب سے 10 سے 50 سال تک کی عمر کی خواتین کے لیے مندر میں داخلے پر صدیوں سے جاری پابندی ختم کرنے کے حکم کے بعد دو جنوری کو مندر میں داخل ہونے والی اولین خاتون عقیدت مند تھیں۔

مندر میں ان کے داخلے کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں تھیں۔ جس کے بعد انہیں کچھ دنوں کے لیے روپوش ہونا پڑا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر عدالت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کنک درگا اور بندو ایمینی مندر میں داخل ہو رہی ہیں جس کے بعد کئی علاقوں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ 2 جنوری 2019
کنک درگا اور بندو ایمینی مندر میں داخل ہو رہی ہیں جس کے بعد کئی علاقوں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ 2 جنوری 2019

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں تین رکنی بینچ نے کالج کی ایک لیکچرر اور سی پی آئی ایم ایل کی کارکن 42 سالہ بندو اور سول سپلائی محکمے کی ایک ملازمہ 44 سالہ کنک درگا کی درخواست پر انھیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ بندو کوزی کوڈ ضلع اور درگا ملاپورم کی رہائشی ہیں۔

دونوں خواتین دو جنوری کو پولیس کے تحفظ میں مندر میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب 10 اور 50 سال عمر کے درمیان کی خواتین مندر میں پہنچیں۔ ان کے داخلے کے بعد پوری ریاست میں احتجاج کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ بی جے پی اور کانگریس کے کارکنوں نے ایک روزہ ہڑتال بھی کی۔

ان واقعات کے بعد دونوں خواتین پولیس تحفظ میں کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئی تھیں۔ لیکن جب منگل کے روز کنک درگا اپنے گھر پہنچیں تو ان کی ساس نے ان پر ڈنڈے سے حملہ کیا۔ ان کے سر پر چوٹ آئی اور انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں خواتین کی رہائش کے موجودہ مقام کو مخفی رکھا جا رہا ہے۔ وائس آف امریکہ نے ان کی رہائش کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کارکن اور دہلی یونیورسٹی میں استاد ڈاکٹر ببلی پروین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مندر میں داخل ہونے والی خواتین کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر مزید خواتین بھی مندر میں جانا چاہیں تو انہیں بھی سیکورٹی فراہم کی جائے۔

مندر میں دو عورتوں کے داخلے کے بعد ہیڈ پجاری مندر کی تطہیر کر رہا ہے۔ 2 جنوری 2019
مندر میں دو عورتوں کے داخلے کے بعد ہیڈ پجاری مندر کی تطہیر کر رہا ہے۔ 2 جنوری 2019

انھوں نے کہا کہ جب عدالت نے عورتوں کو مندر میں جانے کی اجازت دے دی ہے تو پھر کسی کی جانب سے مخالفت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ صرف سبری مالا مندر کا معاملہ نہیں ہے۔ ایسے بہت سے مندر ہیں جہاں عورتوں پر ان کے مخصوص ایام کی وجہ سے مندر میں جانے پر پابندی ہے۔

انھوں نے اس پابندی کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین نے ہمیں مساوی حقوق دیے ہیں جسے کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا۔

خیال رہے کہ مذکورہ خواتین کے مندر سے نکلنے کے بعد ہیڈ پجاری کے حکم پر گنگا جل سے مندر کی تطہیر کی گئی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے سینئر وکیل وجے ہنساریہ نے عدالت کو بتایا کہ ان دونوں خواتین کے ساتھ ساتھ مندر میں داخل ہونے والی تمام عقیدت مند عورتوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک 51 عورتیں مندر میں داخل ہو چکی ہیں۔

سبری مالا مندر میں دو عورتوں کے داخلے کے ایک مظاہرہ، جس میں عورتیں بھی شریک ہیں۔2 جنوری 2019
سبری مالا مندر میں دو عورتوں کے داخلے کے ایک مظاہرہ، جس میں عورتیں بھی شریک ہیں۔2 جنوری 2019

دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں دینے والوں کے وکیل میتھیو نیدومپارہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مندر میں ایک بھی عورت داخل نہیں ہو سکی ہے۔

28 ستمبر کو سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی آئینی بینچ نے تمام عمر کی خواتین کو مندر میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورتوں کے مندر میں داخلے پر پابندی آئین کے منافی ہے۔

یاد رہے کہ 10 سال سے50 سال کی عمروں کی عورتوں پر، اس وجہ سے مندر میں داخل ہونے پر صدیوں سے پابندی عائد تھی کہ یہ ماہواری کی عمر ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کی سب سے زیادہ مخالفت بی جے پی کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سیاسی اسباب سے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG