رسائی کے لنکس

logo-print

سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں فیصلہ 14 مارچ تک موخر


پنچکولہ (ہریانہ) کی خصوصی این آئی اے عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں آج سنایا جانے والا فیصلہ 14 مارچ تک موخر کر دیا۔

عدالت نے ایک پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی اس درخواست پر کہ وہ عدالت میں ثبوت پیش کرنا چاہتی ہے، اپنا فیصلہ موخر کیا۔ خاتون نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس کے والد بھی دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اس نے دعویٰ کیا کہ دھماکے کے بیشتر عینی شاہد پاکستانی ہیں لیکن عدالت نے انھیں گواہی کے لیے نہیں بلایا۔ عینی شاہدین بیان دینا چاہتے ہیں لیکن انھیں ویزا نہیں دیا گیا۔ بقول اس کے اگر ثبوتوں کے بغیر ہی فیصلہ سنایا گیا تو یہ متاثرین کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

عدالت نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے این آئی اے اور ملزموں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

ملزموں کے ایک وکیل نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پاکستانی گواہوں کو کئی بار سمن جاری کیے مگر وہ نہیں آئے۔ اس کے مطابق بارہ برسوں سے کیس چل رہا تھا اور اب جبکہ فیصلہ آنے والاتھا تو درخواست داخل کرنے سے درخواست دہندہ کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

دہلی اور اٹاری کے درمیان چلنے والی اس ٹرین میں 18فروری 2007 کو جبکہ وہ دہلی سے روانہ ہوئی تھی، ہریانہ میں پانی پت کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس میں 43 پاکستانیوں سمیت 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ہلاک شدگان میں دس بھارتی اور پندرہ نامعلوم افراد تھے۔

ابتدا میں اس کیس کی تفتیش ہریانہ پولیس کر رہی تھی مگر بعد میں اسے این آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نے آٹھ افراد کو ملزم بنایا تھا جن میں سے صرف چار کے خلاف عدالتی کارروائی چلی۔

کلیدی ملزم سوامی اسیمانند نے ایک مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ہندو شدت پسندوں کے ساتھ مل کر دھماکہ کیا تھا مگر بعد میں وہ اپنے بیان سے مکر گیا۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے 2015 میں اسے ضمانت دے دی۔

باقی تین ملزموں کے نام کمل چوہان، راجندر چودھری اور لوکیش شرما ہیں۔ تین ملزموں انل چوہان، رام چندر کلا سنگرا اور سندیپ ڈانگے کو مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔

این آئی اے نے اپنی فرد جرم میں کہا تھا کہ یہ دھماکہ پاکستانی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس نے ایک شخص سنیل جوشی کو ماسٹر مائنڈ بتایا تھا جسے مدھیہ پردیش کے دیواس میں دسمبر 2007 میں ہلاک کر دیا گیا۔

اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم اور وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے اس واردات کو ”ہندو دہشت گردی“ کی کارروائی قرار دیا تھا۔ جس پر آر ایس ایس اور بی جے پی نے زبردست ہنگامہ کیا جس پر دونوں نے اپنے الفاظ واپس لے لیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG