رسائی کے لنکس

logo-print

نریندر مودی اور محمد بن سلمان میں دہشت گردی کی روک تھام پر اتفاق


سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نئی دہلی کے حیدر آباد ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران۔ 20 فروری 2019

وزیر اعظم نریند رمودی اور بھارت کے دورے پر آئے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے وفود سطح کے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم مودی نے پلوامہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور سعودی عرب دہشت گردی کے معاملے میں ایک ہی صفحے پر ہیں، تاہم انہوں نے پاکستان کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اقوام پر ہر ممکن دباؤ بڑھایا جائے جو دہشت گردی کی مدد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ڈھانچوں کو تباہ کیا جانا چاہیے اور دہشت گرد گروپس کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

ولی عہدمحمد بن سلمان نے دہشت گردی کے سلسلے میں اپنے بیان میں کہا کہ ہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جینس کے تبادلے سمیت ہرممکن مدد کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہ صرف بھارت بلکہ باقی سارے ملک جو آس پاس ہیں، سب کے ساتھ مل کر کام کریں گےتاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن ہو سکے۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا اور خلیج کے خطے کا امن اور استحکام بھارت اور سعودی عرب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے انسداد ، سائبر سیکورٹی اور بحری سلامتی کے لیے دو طرفہ رابطوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے بھارتیوں کے لیے جج کا کوٹہ بڑھانے پر محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سودیوں کے لیے ای ویزا بڑھا دیا جائے گا۔

بھارت اور سعودی عرب نے دفاع اور دوبارہ قابل استعمال توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور ثقافت وغیرہ میں بھارت اور سعودی عرب کے مفادات ایک جیسے ہیں۔ ہم پیٹروکیمکلز جیسے شعبوں کو متنوع بنا رہے ہیں۔

اس موقع پر محمد بن سلمان نے بھی باہمی رشتوں کو بہت اہم بتایا۔ انھوں نے اپنے مختصر بیان میں پلوامہ حملے کا ذکر تو نہیں کیا لیکن انتہاپسندی اور دہشت گردی کو دونوں ملکوں کا مشترکہ مسئلہ بتایا۔

محمد بن سلمان نے یہ بھی بتایا کہ 2016 کے بعد ہمارے اقتصادی رشتوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ہم نے اس وقت بھارت میں 42 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

اس موقع پر دونوں ملکوں نے سیاحت اور ہاؤسنگ سمیت متعدد شعبوں میں پانچ معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔

دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان یہ مذاکرات پلوامہ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان میں بڑھتی کشیدگی کے سائے میں ہوئے۔

سعودی عرب اور بھارت کے درمیان مذاكرات کے اہم نکات

1- سعودی عرب نے پلوامہ حملے کی سخت مذمت کی جب کہ بھارت نے کہا کہ پاکستان پلوامہ حملے میں ملوث ہے۔

2- دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاكرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

3- دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کو مسترد کیا۔

4- دونوں ملکوں نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی اپیل کی اور دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں پر پابندیوں کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کے جامع کنونشن پر فوری عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

5- سعودی عرب نے کہا کہ دوسری ریاستوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کی کسی بھی قسم کی حمایت اور مالی امداد کو روکا جائے۔

6- محمد بن سلمان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مئی 2014 سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو سراہا۔

7- دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کے ساتھ ساتھ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح پر سیکورٹی پر جامع مذاکرات کیے جائیں گے۔

سعودی ولی عہد کے بھارتی دورے کی اہمیت

دہلی میں سعودی کراؤن پرنس کے اس دورے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارت کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں یہاں اس بات کی امید کی جا رہی تھی کہ محمد بن سلمان پاکستان کو کوئی سخت پیغام دیں گے۔ لیکن ان کے بیان سے بعض شدت پسند حلقوں کو مایوسی ہوئی۔

سعودی ولی عہد نے بھارت سے پہلے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ چونکہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو سعودی ولی عہد کے پاکستان سے براہ راست بھارت آنے پر تحفظات تھے، اس لیے وہ پاکستان کا دروہ مکمل کرنے کے بعد پہلے ریاض گئے اور وہاں ایک رات قیام کے بعد منگل کے روز نئی دہلی پہنچے۔

وزیر اعظم مودی نے سفارتی پروٹوکول کو ایک طرف رکھتے ہوئے ائیر پورٹ پر سعودی ولی عہد کو گلے لگا کر ان کا استقبال کیا۔ انھیں راشٹرپتی بھون میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

اسی دوران ایک خبر کے مطابق جے پور سینٹرل جیل میں قید ایک 50 سالہ پاکستانی شہری شکر اللہ کو جیل میں بعض قیدیوں نے ہلاک کر دیا۔

ادھر بھارت پلوامہ حملے کے سلسلے میں ایک ڈوزئیر تیار کررہا ہے جو تمام سفیروں کو بھیجا جائے گا۔ اس بارے میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان اور امریکہ کے ہائی کمشنروں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG