رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے، بھارت


دونوں ملکوں کے خارجہ امور کے سیکریٹریوں کے درمیان طے شدہ مذاکرات کے مستقبل سے متعلق سوال پر بھارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے۔

بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ حملے سے متعلق فراہم کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف "فوری اور سخت" کارروائی کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس مطالبے کے بعد دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان آئندہ ہفتے ہونے والی بات چیت ملتوی ہونے کے خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

جمعرات کو نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے کہا کہ بھارتی حکومت اسلام آباد کو قابلِ عمل شواہد فراہم کرچکی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو دیے جانے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ملوث ملزمان پاکستان سے آئے تھے۔

دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان طے شدہ مذاکرات کے مستقبل سے متعلق ایک سوال پر بھارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے۔

وکاس سوارپ نے کہا کہ اس وقت بھارت کے پیشِ نظر اہم ترین اور فوری معاملہ یہ ہے کہ پاکستان دہشت گرد حملے کے ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پاکستانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو حملے سے متعلق جو شواہد فراہم کیے ہیں ان میں مبینہ حملہ آوروں کے ٹیلی فون نمبرز، فون کالز اور ان مقامات کی تفصیلات شامل ہیں جہاں سے بھارتی انٹیلی جنس اداروں کے خیال میں حملہ آور یا ان کے سرپرست ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔

پاکستانی عہدیدار نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ حکام بھارت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد پر کام کر رہے ہیں اور اسلام آباد کو امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ نہیں ہوں گے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صدارت میں جمعرات کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں سرکاری بیان کے مطابق "قومی اور خطے کی سلامتی سے متعلق امور" پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

تاہم بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں بھارت کی جانب پٹھان کوٹ حملے سے متعلق دیے جانے والے شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کی سرحد کے نزدیک پٹھان کوٹ کے علاقے میں واقع بھارتی فضائیہ کے اڈے پر مسلح حملہ آوروں کے حملے میں بھارتی فوج کے سات اہلکار ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے تھے۔

بھارتی فوج نے فوجی اڈے پر چار روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد تمام چھ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بھارتی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ حملے میں 'جیشِ محمد' نامی پاکستانی تنظیم ملوث ہے جو اس سے قبل بھارتی حکام کے مطابق 2001ء میں نئی دہلی میں پارلیمان کی عمارت پر بھی حملہ کرچکی ہے۔

اس حملے کے باعث پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے اور دونوں ملکوں نے اپنی فوجیں سرحد پر جمع کردی تھیں جس سے جنگ کے خطرات پیدا ہوگئے تھے۔

پٹھان کوٹ پر حملہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے اچانک دورۂ پاکستان کے چند ہفتے بعد ہوا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آنے اور مذاکراتی عمل بحال ہونے کی امیدیں روشن ہوگئی تھیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات 14 اور 15 جنوری کو اسلام آباد میں ہونی ہے لیکن تاحال دونوں حکومت نے اس ملاقات کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔

پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے تجزیہ کار مسلسل یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت حملے کو جواز بنا کر یہ ملاقات منسوخ یا ملتوی کرسکتا ہے۔

بعض بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی خبر دی ہے کہ بھارتی حکومت پٹھان کوٹ حملے کے ردِ عمل میں پاکستان کے ساتھ سیکریٹری سطح کے مذاکرات ملتوی کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ماضی میں بھی اس نوعیت کے دہشت گرد حملوں اور دیگر تنازعات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل بارہا تعطل کا شکار ہوا ہے۔

لیکن 'رائٹرز' سے گفتگوکرتے ہوئے پاکستانی عہدیدار نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں نے دسمبر میں ہونے والی ملاقات میں اتفاق کیا تھا کہ کسی قسم کی ممکنہ رکاوٹ یا تنازع کے باوجود اس بار بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے دیے جانے والے شواہد کی تصدیق ہوئی تو پاکستان بھارت کی تسلی کے لیے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی حراست میں بھی رکھ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG