رسائی کے لنکس

logo-print

اناؤ ریپ کیس کے تمام مقدمات دہلی منتقل، ملزم رکن اسمبلی بی جے پی سے خارج


بھارت کی سپریم کورٹ۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے اناؤ کی ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ ریپ سے متعلق تمام مقدمات کو ریاست سے دہلی کی ایک خصوصی عدالت میں منتقل کر دیا ہے۔ ان مقدمات میں لڑکی کے قتل کی کوشش کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ لڑکی کو، جو تشویش ناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے، 25 لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔ تمام معاملات کی سماعت یومیہ بنیاد پر ہو گی۔

جمعرات کی شام کو رائے بریلی کے ڈی ایم نے متاثرہ لڑکی کی والدہ کے نام 25 لاکھ روپے کا چیک جاری کر دیا ہے جو جمعہ کے روز اسے دیا جائے گا۔

اتوار کے روز لڑکی، اس کی والدہ، اس کی چچی اور اس کے وکیل لکھنؤ جا رہے تھے کہ رائے بریلی میں ایک ٹرک نے، جس کی نمبر پلیٹ پر سیاہی پھیر دی گئی تھی، مخالف سمت سے آتے ہوئے ٹکر مار دی تھی۔ اس حادثے میں لڑکی کی چچی اور ایک اور رشتے دار ہلاک ہو گئے، جب کہ وہ اور اس کے وکیل دونوں کی حالت نازک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والے بینچ نے خصوصی عدالت کو 45 دنوں میں سماعت مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

جب کہ سی بی آئی کو سڑک حادثے کی جانچ سات دنوں میں مکمل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی نے حادثے سے قبل چیف جسٹس کے نام ایک مکتوب میں سیکورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی اور کسی بھی انہونی کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔

چیف جسٹس نے مذکورہ خط ان تک نہ پہنچانے پر سپریم کورٹ کی رجسٹری پر اپنے غصے کا اظہار کیا۔

اس کیس کا کلیدی ملزم کلدیپ سنگھ سینگر ہے جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا رکن اسمبلی ہے اور اس وقت جیل میں ہے۔ ملک بھر میں زبردست احتجاج کی وجہ سے پارٹی نے پہلے انہیں معطل کیا تھا اور اب برطرف کر دیا ہے۔

متاثرین نے یو پی پولیس کی سیکورٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے متاثرہ لڑکی، اس کے وکیل، اس کی والدہ، اس کے چچا اور بچوں کی سیکورٹی نیم مسلح دستہ سی آر پی ایف کے سپرد کر دی ہے۔

لڑکی کا چچا ایک دوسرے کیس میں رائے بریلی جیل میں بند ہے۔ ان پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ جب کہ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ بی جے پی ایم ایل اے نے ان پر فرضی کیس بنوایا ہے۔ عدالت نے اسے تہاڑ جیل منتقل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

رائے بریلی حادثے کی وجہ سے لڑکی کی سیکورٹی میں شامل تین پولیس اہل کاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

لڑکی نے جون 2017 میں کلدیپ سنگھ سینگر پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا ریپ کیا تھا۔ اس کی شکایت کے بعد اس کے والد کو مبینہ طور پر ہلاک کروا دیا گیا تھا۔

جب لڑکی کی شکایت کے بعد میڈیا میں زبردست ہنگامہ ہوا تب سینگر کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تھا۔

متاثرہ لڑکی نے 8 اپریل 2018 کو لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ کے باہر خود سوزی کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی یہ معاملہ شہ سرخیوں میں ہے۔

اتوار کے روز ٹرک کے ذریعے اس کی کار کو ٹکر مارنے کے بعد یہ معاملہ کافی نمایاں ہو گیا ہے اور پورے ملک میں اس کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

دہلی خواتین کمشن کی چیئرپرسن سواتی مالی وال نے بدھ کے روز یو پی کی گورنر آنندی بین پٹیل سے ملاقات کی اور متاثرہ لڑکی کو علاج کے لیے دہلی منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG