رسائی کے لنکس

logo-print

ہاتھی پر شیر کا شکار، نشانہ عورت بن گئی


فائل فوٹو

بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں ایک آدم خور شیرنی کو ہلاک کرنے کے لیے جانے والی ٹیم کے ہاتھ شیرنی تو نہ آئی، لیکن فارسٹ رینجرز کے ایک ہاتھی نے ایک عورت ہلاک کر ڈالا۔

مہاراشٹر کے جنگل کی نگرانی کرنے والے عملے کو سواری کے لیے عموماً ہاتھی دیے جاتے ہیں کیونکہ جنگلات اتنے گھنے ہیں کہ وہاں کوئی گاڑی نہیں جا سکتی اور تنگ راستوں سے گزرنے اور دیگر درندوں سے محفوظ رہنے کے لیے وہ ہاتھیوں پر سواری کرتے ہیں۔ ان جنگلوں میں شیر اور دیگر درندے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں جتنے شیر موجود ہیں، ان کی آدھی تعداد بھارت میں ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے تخمینے کے مطابق سن 2016 میں بھارت کے جنگلوں میں شیروں کی تعداد تقریباً 3900 تھی۔

بھارت میں ہاتھیوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن میں پالتو اور جنگلی دونوں طرح کے ہاتھی شامل ہیں۔ وہاں ہر سال ہاتھی بھی کئی افراد کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل کر ہلاک کر ڈالتے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں محکمہ جنگلات کے ایک عہدے دار اے کے مشرا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ریاست مہاراشٹر میں حکام نے ایک آدم خور شیرنی کو مارنے کا حکم دیا ہے جو اب تک کم از کم 13 لوگوں کو ہلاک کر چکی ہے۔

شیر عموماً انسان پر حملہ نہیں کرتے، لیکن اگر انسانی خون ان کے منہ کو لگ جائے تو وہ آدم خور بن جاتے ہیں اور گھات لگا کر انسانوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

آدم خور شیرنی نے پچھلے سال پانچ انسانوں کو ہلاک کیا تھا اور اس سے پچھلے سال 8 لوگ اس کی درندگی کا نشانہ بنے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ ہاتھوں پر سوار اور بندوقوں سے مسلح گارڈز شیرنی کی تلاش میں جنگل کی جانب روانہ ہوئے۔ لیکن رات ہونے پر جب پہلا پڑاؤ ڈالا گیا تو ایک ہاتھی بدک کر بھاگ نکلا اور تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک آبادی میں گھس گیا۔ اس دوران ہاتھی کو ایک عورت نظر آئی جسے اس نے اپنے پاؤں کے نیچے کچل کر مارا ڈالا۔ عورت کی عمر 35 سال بتائی گئی ہے۔

خبروں کے مطابق فرار ہونے والے ہاتھی کو بعد ازاں پکڑ لیا گیا۔ اور احتیاط کے پیش نظر پانچوں ہاتھیوں کو شیرنی کی تلاش کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

جنگل میں جانے والی ٹیم کے ہاتھ ابھی تک آدم خور شیرنی تو نہیں آئی لیکن انسانی ہلاکتوں میں ایک عورت کا اضافہ ہو گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب آدم خور شیرنی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ ہوا تو جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکن 9 ہزار سے زیادہ دستخطوں پر مشتمل درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے اور اعلیٰ عدالت سے اپیل کی کہ شیرنی کو زندہ پکڑنے کا حکم صادر کیا جائے۔ تاہم عدالت نے ان کی درخواست رد کر دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG