رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں قید تین پاکستانی خواتین کی رہائی کی امید


بھارتی جیل میں قید دونوں پاکستانی خواتین اور بچی کی پاکستانی قونصلر اور بھارت سماجی رضاکار کے ہمراہ تصویر

دونوں بہنیں اور بچی گزشتہ 11 سال سے بھارت کی امرتسر جیل میں قید ہیں

بھارت کی امرتسرجیل میں پاکستانی خاتون کے ہاں پیداہونیوالی ایک بچی کو پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے اپنا شہری تسلیم کرلیا گیا ہے جس کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے بھی 10 سالہ حنا، اس کی والدہ اورخالہ کی فوری رہائی کے لیے 'این اوسی' جاری کردیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانولہ کے نواحی علاقے کی رہائشی دو بہنیں 38 سالہ ممتاز اور 42 سالہ فاطمہ 2006ء میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے بھارت گئی تھیں مگر اٹاری اسٹیشن پرانہیں منشیات اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اُس وقت فاطمہ چند ماہ کی حاملہ تھی، جس نے بعد ازاں جیل میں ہی بچی کو جنم دیا تھا جس کا نام حنا رکھا گیا۔ حنا اب 10 برس کی ہوچکی ہے۔

دونوں بہنیں اور بچی گزشتہ 11 سال سے بھارت کی امرتسر جیل میں قید ہیں۔

دونوں بہنوں کو بھارت کی ایک عدالت نے چار لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا تھا جو بھارت کی ایک خاتون سماجی رضاکار ناوجوت کور ایڈووکیٹ نے ادا کیا۔

ناوجوت کور کے مطابق پاکستانی قونصلر فوزیہ منظور نے حنا کی پاکستانی شہریت تسلیم کرلی ہے جبکہ ان کی رہائی کے بارے میں بھارت کی مرکزی حکومت نے این اوسی بھی جاری کردیا ہے۔

تاہم ناوجوت کور کے مطابق ابھی چندی گڑھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے این اوسی کا انتظار ہے جس کے بعد ان دونوں بہنوں اور بچی کو پاکستان واپس جانے کے لیے آؤٹ پاس جاری ہوسکے گا۔

بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر کی سینٹرل جیل میں اس وقت 53 پاکستانی قید ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG